بوسنیا: سرب فوج کے ہاتھوں قتل عام کانشانہ بننے والوں کی یاد میں ہزاروں افراد کا مارچ

08 جولائ 2023
ہزاروں افراد نے مارچ میں حصہ لیا—فوٹو: بشکریہ الجزیرہ
ہزاروں افراد نے مارچ میں حصہ لیا—فوٹو: بشکریہ الجزیرہ

بوسنیا کے مشرقی علاقے میں ہزاروں افراد نے 1995 میں بوسنیائی سرب فوج کے ہاتھوں قتل عام کا نشانہ بننے والے ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں کی یاد میں مارچ کیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد ہونے والی تسلیم شدہ بدترین نسل کشی کے بدترین واقعے کے حوالے سے ہزاروں افراد کا مارچ مشرقی جنگلات سے گزرا۔

بوسنیا میں سالانہ 100 کلومیٹر (62 میل) کا مارچ ہفتے کو ہوا، جس میں بوسنیاک مسلمان قبیلے کے ہزاروں افراد شامل تھے، جن کے پیارے 1992 سے 1995 کے دوران سرب فورسز کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔

نسل کشی کے حوالے سے 11 جولائی کو ہرسال تقریبات منعقد ہوتی ہیں اور یہ مارچ بھی اسی کا حصہ تھا۔

منتظمین کے مطابق اس مارچ میں 4 ہزار افراد شامل تھے جبکہ بوسنیا میں نسلی فسادات بھی جاری ہیں جہاں سرب قبیلے علیحدگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مارچ کرنے والے ریسید ڈیرویسویک کا کہنا تھا کہ میں یہاں اپنے بھائی، دوست اور جانبازوں کی یاد میں آیا ہوں، جنہیں یہاں ختم کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا ایمان ہے کہ یادیں تازہ کرنا اور آگاہی کے لیے یہ کام کرنا میری ذمہ داری ہے۔

ایک اور متاثرہ عثمان سیلکک کا کہنا تھا کہ جب آپ یہاں آتے ہیں تو ملے جلے تاثرات ہوتے ہیں، جب آپ کو پتا چلتا ہے کہ 1995 میں یہاں لوگ کیسے لیٹے ہوئے تھے اور آج کس طرح کی صورت حال ہے۔

یاد رہے کہ بوسنیا کا تنازع 1992 میں سابقہ یوگوسلاویہ کے ٹوٹ پھوٹ اور بوسنیائی سربوں کی بغاوت اور اپنی ریاست قائم کرکے سربیا سے الحاق کی مہم کے آغاز کے بعد شروع ہوا تھا۔

اس جنگ میں ایک لاکھ سے زائد افراد مارے گئے تھے اور 1995 میں تنازع ختم ہوگیا تھا۔

جولائی 1995 میں سرب فوجیوں نے 8 ہزار بوسنیائی مردوں کو ان کے اہل خانہ سے الگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اور بوسنیائی سرب فوجیوں نے اپنے جرائم چھپانے کے لیے مسلمانوں کی لاشیں مشرقی علاقوں میں اجتماعی قبروں میں دفن کردی تھیں۔

بعدازاں نیدرلینڈز کے شہر ہیگ میں قائم بین الاقوامی عدالت نے بوسنیائی سرب سیاسی رہنما راڈوان کراڈزک اور سابق فوجی کمانڈر ریتکو ملاڈک کو نسل کشی کی منصوبہ سازی پر عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

سرب فوج کے ہاتھوں ہونے والی نسلی کشی کے بعد اب تک 6 ہزار 600 باقیات جمع کر کے دفنا دی گئی ہیں اور سربرینیکا کے باہر ایک وسیع یادگار بنائی گئی ہے جہاں مزید باقیات دفنائی جا رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگلے ہفتے منگل کو یہاں مزید 30 متاثرین کی باقیات دفنائی جائیں گے، جن کی شناخت حال ہی میں ہوئی اور اجتماعی قبروں سے مسلسل مزید متاثرین کی شناخت کا عمل جاری ہے اور انہیں ہر سال 11 جولائی کو دفنایا جاتا ہے جو 11 جولائی 1995 کو قتل عام شروع ہونے والی تاریخ کی مناسبت سے ہوتی ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں