اداکارہ و میزبان جگن کاظم نے اپنے اوپر ہونے والی تنقید پر بتایا کہ سب سے زیادہ زیادتی اور سب سے زیادہ ٹرولنگ میرے ساتھ اس وقت ہوتی ہے جب میں حاملہ ہوتی ہوں، لوگوں نے ’گینڈا‘ کہہ کر میرا مذاق اڑایا تھا۔

جگن کاظم نے یوٹیوب چینل کو انٹرویو دیا جہاں انہوں نے اپنے اوپر ہونے والی تنقید کے علاوہ کریئر اور دیگر پہلوؤں سے متعلق گفتگو کی۔

میزبان کے سوال پر جگن کاظم نے کہا کہ ’ہم سب لوگوں کی منفی باتیں سُن سُن کر ہی بڑے ہوئے ہیں، ہمارا وزن بڑھتا ہے تو لوگ تنقید کرتے ہیں، پتلے ہوتے ہیں تو لوگ مذاق اڑاتے ہیں، کبھی چہرے کی رنگت اور قد پر تبصرے کیے جاتے ہیں، پاکستان سمیت پورے جنوبی ایشیا میں لوگ ایک دوسرے پر اتنا تبصرہ کرتے ہیں کہ بچپن سے ہی ہم ٹرولنگ کو برداشت کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ لوگوں کا کام کہنا ہے وہ تو کہیں گے، اگر آپ اپنی ذات سے خوش ہیں تو جیسے چاہے آپ رہ سکتے ہیں، مجھے جسمانی طور پر فٹ ہونا پسند ہے اور ورزش کرنا پسند ہے، اس لیے میں محنت کرکے اپنا وزن کم کرلیتی ہوں لیکن جب میں حاملہ ہوتی ہوں تو میں اپنے جسم اور دماغ پر زیادہ محنت نہیں کرتی۔’

جگن نے کہا کہ سب سے زیادہ زیادتی اور سب سے زیادہ ٹرولنگ میرے ساتھ اس وقت ہوتی ہے جب میں حاملہ ہوتی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ 2020 میں میری بیٹی نور کی پیدائش سے قبل جب میں نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر پوسٹ کرکے بچے کی جنس کا اعلان کیا تھا تو لوگوں نے مجھے کہا کہ ’ہائے اللہ! آپ تو گینڈا بن گئی ہیں‘۔

جگن نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’مجھے معلوم ہے کہ میرا وزن بڑھ گیا تھا لیکن گینڈا بہت سخت لفظ ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’لوگوں کی منفی باتیں اور تنقید سن سن کر میں ڈھیٹ ہوگئی ہوں، درحقیقت یہ باتیں مجھ سمیت کئی لوگوں کی ذہنی حالت پر بُرا اثر ڈالتی ہیں، لیکن میرے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کم لوگ منفی باتیں کرتے ہیں۔‘

اداکارہ نے کہا کہ ’اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے یا میرے کسی عمل سے لوگوں کو تکلیف پہنچی ہے تو میں معافی مانگنے میں پہل کروں گی، میں تسلیم کرتی ہوں کہ اگر میں نے سوچے سمجھے کوئی بات بولی ہے تو میں ہمیشہ معافی مانگنے میں پہل کروں گی، میں انسان ہوں، مجھ سے بھی غلطی ہوسکتی ہے۔‘

میزبان کے سوال پر جگن نے کہا کہ ’سوشل میڈیا ٹرولنگ پر میں اپنے فالوورز کو ویڈیو پیغام کے ذریعے ردعمل دیتی ہوں، میرے دل میں جو ہوتا ہے وہ میں بول دیتی ہوں، یہ میرے اندر ایک قسم کا آتش فشاں ہوتا ہے تو اچانک پھٹ جاتا ہے۔‘

میزبان نے جب ریپڈ فائر راؤنڈ میں سوال کیا کہ آپ سب سے زیادہ پریشان کس چیز سے ہوتی ہیں تو جگن کاظم نے جواب دیا کہ ’تشدد سے‘۔

انہوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’ضرروی نہیں کہ مردوں کا عورت پر تشدد ہی پریشان کرے، بلکہ ماں باپ کا اپنے بچوں پر تشدد، بھائی کا بہن پر تشدد، بیوی کا شوہر پر تشدد کے علاوہ ہر قسم کا تشدد مجھے شدید پریشان کرتا تھا۔‘

میزبان نے جب سوال کیا کہ زندگی میں آپ کا سب سے بڑا پچھتاوا کیا ہے تو جگن نے جواب دیا کہ ’میرے خیال میں میرا سب سے بڑا پچھتاوا یہ ہے کہ میں نے اپنی زندگی کا بہت زیادہ وقت غصے میں رہ کر گزارا۔

انہوں نے بتایا کہ ’ایک لمحہ تھا جب میں کام کر رہی تھی اور میں مسلسل غصے میں رہتی تھی، لیکن حال ہی میں مجھے اندازہ ہوا کہ کام خوشی سے بھی ہوسکتا ہے اور غصے سے بھی ہوسکتا ہے، اگر کام کو کرنا ہی ہے تو خوش رہ کر کرنے میں کیا حرج ہے اور اگر کوئی کام نہیں کرنا تو اسے نہ کریں تو بہتر ہے۔‘

یاد رہے کہ جگن کی شادی سال 2013 میں فیصل ایچ نقوی کے ساتھ ہوئی جن سے ان کا ایک بیٹا حسن ہے جبکہ بڑا بیٹا حمزہ جگن کی پہلی شادی سے ہے جبکہ بیٹی نور کی پیدائش بھی ہوئی تھی۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں