مراکشی نژاد کینڈین ڈانسر نورا فتیحی نے بھارتی فلموں میں مرکزی کردار نہ ملنے پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’انڈسٹری میں صرف 4 لڑکیوں کو پروجیکٹس میں مسلسل کاسٹ کیا جارہا ہے، ایسے فلم سازوں کی کمی ہے جو مجھ جیسی فنکارہ کو مرکزی کردار دے کر رسک لے سکیں۔‘

اداکارہ اور ڈانسر نورا فتیحی نے 2014 میں بھارت میں ماڈلنگ، اداکاری و ڈانس کیریئر کا آغاز کیا اور اب تک وہ ہندی سمیت ملالم، تیلگو اور تامل فلموں میں مختصر کرداروں سمیت آئٹم سانگ بھی کر چکی ہیں۔

2018 میں ان کا گانا ’دلبر دلبر‘ کافی مقبول ہوا تھا، جس کے بعد وہ ’دلبر‘ کے عربی ورژن میں بھی رقص کرتی دکھائی دی تھیں۔

انہیں سب سے زیادہ شہرت ’دلبر دلبر‘ کے ریمیک سے ملی، بعد ازاں ان کا گانا ’کمریا‘ بھی ریلیز ہوا جو لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا۔

نورا فتیحی نہ صرف بھارت بلکہ مشرق وسطیٰ کی بھی معروف ڈانسر ہیں اور انہوں نے ’دلبر‘ کے عربی ورژن سمیت کئی عربی گانوں میں شاندار پرفارمنس کرکے لوگوں کے دل جیتے ہیں۔

بھارتی فلموں میں مرکزی کردار نہ ملنے پر نورا فتیحی نے نیوز 18 کو انٹڑویو دیتے ہوئے کہا کہ فلمسازوں کو قائل کرنا اس لیے مشکل نہیں ہے کہ وہ ایک ڈانسر ہیں بلکہ انڈسٹری میں ایسے فلمسازوں کی کمی بھی ہے جو مجھ جیسی فنکارہ کو مرکزی کردار دے کر رسک لے سکیں۔

نورا نے کہا کہ فلم ساز انہیں مرکزی کردار میں کاسٹ کرنے یا ان کے ساتھ کام کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں نہیں سمجھتی کہ چونکہ میں رقص کرتی ہوں اس لیے فلمساز مجھے کاسٹ نہیں کرنا چاہتے، بولی وڈ میں دیگر نامور اداکارائیں بھی خوبصورت رقص کرتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ فلمساز مجھے مرکزی کردار میں کاسٹ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں، یہ اس لیے نہیں کہ میں ایک ڈانسر کی حیثیت سے جانی جاتی ہوں بلکہ وہ اس انتظار میں ہیں کہ کون مجھے بطور اداکارہ کاسٹ کرکے رسک لے سکتا ہے۔

نورا فتیحی کے مطابق فلم ساز محتاط انداز اپنا رہے ہیں، یہ دیکھنے کے لیے انتظار کر رہے ہیں کہ آیا وہ ایک کامیاب اداکاری کے لیے درکار تمام مختلف پہلوؤں کو پورا اتر سکتی ہیں یا نہیں۔

نورا کا خیال ہے کہ فلمساز شاید کسی اور کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ پہلا قدم اٹھائے اور مجھے بطور اداکارہ کاسٹ کریں۔

انہوں نے بتایا کہ آج شوبز کی دنیا میں مقابلہ بہت سخت ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ انڈسٹری میں صرف ’4 لڑکیوں‘ کو پروجیکٹس میں مسلسل کاسٹ کیا جارہا ہے۔

اگرچہ نورا نے ’4 لڑکیوں‘ کا نام نہیں لیا لیکن انہوں نے الزام لگایا کہ فلم ساز ان 4 اداکاراؤں کے علاوہ کسی کو کاسٹ نہیں کر رہے ہیں۔

نورا نے کہا کہ ’اگر صرف 4 لڑکیاں ہی فلمیں کر رہی ہیں اور انہیں ہی تمام پروجیکٹس مسلسل دیے جارہے ہیں ، تو فلمساز صرف ان چاروں کو یاد رکھیں گے وہ اس سے آگے نہیں سوچیں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’صرف چار لڑکیوں کو کاسٹ کرنا غلط ہے، فلمسازوں کا کام ہے کہ وہ دیگر اداکاروں کو بھی موقع دیں، مرکزی کردار میں کاسٹ کرنے کے لیے مجھے اپنے آپ کو پہلے ثابت کرنا ہوگا اور یہی میرا اگلا چیلنج ہے۔‘

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں