حلقہ بندیوں کا عمل مکمل ہونے کے فوراً بعد عام انتخابات ہوں گے، صادق سنجرانی

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات کے بارے میں کوئی غیر یقینی صورتحال نہیں ہے—فوٹو: پی آئی ڈی
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات کے بارے میں کوئی غیر یقینی صورتحال نہیں ہے—فوٹو: پی آئی ڈی

حلقہ بندیوں کے بعد انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کی حمایت اور اسے حال ہی میں تحلیل ہونے والی مخلوط حکومت کا متفقہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اصرار کیا ہے کہ عام انتخابات نئے سرے سے حلقہ بندی کے بعد ہی ہوں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے مزار پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات کے بارے میں کوئی غیر یقینی نہیں ہے، یہ صرف آئینی تقاضے ہیں جو انتخابات کو چند مہینوں کے لیے آگے بڑھا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ الیکشن ہوں گے اور وقت پر ہوں گے، بروقت سے میرا مطلب نئی حلقہ بندیوں کے بعد ہے، حلقہ بندی کا عمل مکمل ہوتے ہی الیکشن کمیشن اگلے عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گا اور پھر انتخابات ہوں گے، قوم کو مطمئن رہنا چاہیے۔

صادق سنجرانی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کی تحلیل سے صرف چند روز قبل مشترکہ مفادات کی کونسل (سی سی آئی) کے اجلاس میں حکومت نے 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج کو متفقہ طور پر اور اس فیصلے کے اثرات کو اچھی طرح جانتے ہوئے منظور کیا۔

ملک میں جاری سیاسی غیر یقینی اور معاشی چیلنجوں کے درمیان اپنے کردار کے بارے میں سوال کے جواب میں چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سینیٹ ملک کی تمام وفاقی اکائیوں کے نمائندہ کے طور پر موجود ہے اور یہ نگران حکومت کے دور میں ملک کے چاروں صوبوں کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ ایک آئینی ادارہ ہے، اس کے پاس ایگزیکٹو اتھارٹی نہیں ہے لیکن ہم سینیٹر اور عوامی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے ملک و قوم کے مسائل پر مؤثر انداز میں آواز اٹھا رہے ہیں، چیئرمین سینیٹ کی حیثیت سے میں بھی آئین کے مطابق اپنا کردار ادا کر رہا ہوں۔

صدر کے الیکشن کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صادق سنجرانی نے کہا کہ موجودہ صدر کی مدت ملازمت 9 ستمبر کو مکمل ہو جائے گی، آئین نئے صدر کے انتخاب تک سبکدوش ہونے والے صدر کو عہدے پر برقرار رہنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں عام انتخابات کے بعد صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی تشکیل کے ساتھ وجود میں آئے گا، جس کے بعد ظاہر ہے کہ اگلے صدر کا انتخاب بھی کرایا جائے گا۔

تبصرے (0) بند ہیں