توہین الیکشن کمیشن: لاہور ہائی کورٹ کا ای سی پی کو عمران خان کے خلاف حتمی فیصلہ نہ کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 22 اگست 2023
لاہور ہوئی کورٹ نے آئندہ سماعت پر الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کردیے — فائل فوٹو: ہائی کورٹ ویب سائٹ
لاہور ہوئی کورٹ نے آئندہ سماعت پر الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کردیے — فائل فوٹو: ہائی کورٹ ویب سائٹ

لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو چیئرمن پی ٹی آئی کے خلاف توہین کیس کا حتمی فیصلہ کرنے سے روکتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وہ اپنی کارروائی جاری رکھے۔

چیئرمن پی ٹی آئی عمران خان کی الیکشن کمیشن کی جاری توہین عدالت کی کارروائی کے خلاف درخواست پر جسٹس وحید خان نے سماعت کی۔

چئیر مین پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر سمیر کھوسہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے، ان کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 10 کے تحت الیکشن کمیشن بھی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی طرح توہین عدالت کے اختیارات استعمال کر رہا ہے، الیکشن ایکٹ کا سیکشن 10 آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔

مزید کہا گیا کہ توہین عدالت کی کارروائی کا اختیار سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے پاس ہے، توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔

ان کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی کالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے درخواست کی گئی کہ عدالت، الیکشن ایکٹ کا سیکشن 10 غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کرے۔

لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو چیئرمن پی ٹی آئی کے خلاف توہین الیکشن کیس کا حتمی فیصلہ کرنے سے روکتے ہوئے حکم دیا کہ الیکشن کمیشن اپنی کارروائی جاری رکھے لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہ کرے۔

عدالت عالیہ نے آئندہ سماعت پر الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کردیے، عدالت نے درخواست کو فل بینچ کے روبرو پیش کرنے کی ہدایت کی۔

عدالتی نوٹ میں کہا گیا کہ اسی نوعیت کی دیگر درخواستیں فل بینچ میں زیر سماعت ہے، لہٰذا یہ معاملہ بھی فل بینچ کے سامنے رکھا جائے۔

پس منظر

گزشتہ سال اگست میں الیکشن کمیش نے عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو مختلف جلسوں، پریس کانفرنسز اور متعدد انٹرویوز کے دوران الزمات عائد کرنے پر الیکشن کمیشن کی توہین اور ساتھ ہی عمران خان کو توہین چیف الیکشن کمشنر کا نوٹس بھی جاری کیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے نوٹس میں عمران خان کے مختلف بیانات، تقاریر، پریس کانفرنسز کے دوران اپنے خلاف عائد ہونے والے بے بنیاد الزامات اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے خلاف استعمال ہونے والے الفاظ، غلط بیانات و من گھڑت الزامات کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان کو 30 اگست کو اپنے جواب کے ساتھ کمیشن میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا تھا۔

ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو توہین الیکشن کمیشن کے نوٹسز جاری کیے ہیں اور کہا گیا ہے کہ 30 اگست کو ذاتی حیثیت یا بذریعہ وکیل پیش ہوں۔

نوٹس میں کہا گیا تھا کہ پیمرا کے ریکارڈ کے مطابق عمران خان نے 11 مئی، 16 مئی، 29 جون، 19، 20 جولائی اور 7 اگست کو اپنی تقاریر، پریس کانفرنسز اور بیانات میں الیکشن کمیشن کے خلاف مضحکہ خیز اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کی، توہین آمیز بیانات دیے اور بے بنیاد الزامات عائد کیے جو براہ راست مرکزی ٹی وی چینلز پر نشر ہوئے۔

الیکشن کمیشن نے عمران خان کو مخاطب کرکے نوٹس میں مزید کہا تھا کہ آپ نے 12 جولائی کو بھکر میں ہونے والے جلسے میں خطاب کیا جو ’اے آر وائی‘ پر نشر ہوا اور ساتھ ہی اگلے دن روزنامہ ’ڈان‘ میں شائع ہوا، جس میں آپ نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین آمیز باتیں کیں اور ان پر من گھڑت الزامات عائد کیے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں