’ گرفتاری کی خبر غلط تھی’، سائفر کیس میں اسد عمر کی 29 اگست تک ضمانت منظور

اپ ڈیٹ 22 اگست 2023
گزشتہ روز اسد عمر کے حوالے سے یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ وہ اسلام آباد سے ’لاپتا‘ ہوگئے ہیں — فوٹو: ڈان نیوز
گزشتہ روز اسد عمر کے حوالے سے یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ وہ اسلام آباد سے ’لاپتا‘ ہوگئے ہیں — فوٹو: ڈان نیوز
پی ٹی آئی رہنما کی درخواست پر خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سماعت کی — فوٹو: ڈان نیوز
پی ٹی آئی رہنما کی درخواست پر خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سماعت کی — فوٹو: ڈان نیوز

سائفر کیس میں گرفتاری کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد عمر منظر عام پر آگئے جب کہ اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سفارتی سائفر سے متعلق آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت درج مقدمے میں ان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی۔

گزشتہ روز اسد عمر کے حوالے سے یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ وہ اسلام آباد سے ’لاپتا‘ ہوگئے ہیں جب کہ اس حوالے سے قیاس آرائیاں کی گئی تھیں کہ شاہ محمود قریشی کی طرح انہیں بھی سفارتی سائفر سے متعلق آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت درج مقدمے میں حراست میں لے لیا گیا ہے، میڈیا رپورٹس اور پارٹی رہنماؤں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں ایف آئی اے نے گرفتار کرلیا۔

یہ دعوے اس بنیاد پر کیے گئے تھے کہ شاہ محمود قریشی اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج ایف آئی آر میں اسد عمر کا نام بھی اُن افراد میں شامل ہے جن سے تفتیش کار اس سلسلے میں پوچھ گچھ کرنا چاہتے ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق ایف آئی اے اس کیس میں اسد عمر اور دیگر افراد کے کردار کا تحقیقات کے دوران پتا لگائے گی، تاہم ایف آئی اے حکام نے اسد عمر کو گرفتار کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سائفر کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور اس کیس میں اسد عمر کے کردار کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔

گرفتاری کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد عمر آج منظر عام پر آگئے، انہوں نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے سائفر کیس میں درخواست ضمانت از گرفتاری دائر کردی۔

پی ٹی آئی رہنما کی درخواست پر خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سماعت کی، درخواست میں وفاق اور سیکریٹری داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے۔

اسد عمر نے وکلا بابر اعوان اور سردار مصروف کے توسط سے درخواست ضمانت دائر کی جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ سائفر کیس سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ اسد عمر کو ہراساں اور بلیک میل کرنے کی غرض سے سائفر کیس بنایا گیا، سائفر کیس اسد عمر کے خلاف بےبنیاد ہے، مقدمے میں دفعات غلط ہیں، اسد عمر شامل تفتیش ہونے کو تیار ہیں، درخواست ضمانت منظور کی جائے۔

خصوصی عدالت نے اسد عمر کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض 29 اگست ضمانت دے دی۔

خصوصی عدالت میں پیشی کے موقع پر گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ میری گرفتاری کی غلط خبر تھی، مجھے ایف آئی اے نے گرفتار نہیں کیا تھا۔

اسد عمر نے کہا کہ سائفر کے معاملے میں عدالت آیا ہوں اور اس کیس میں ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست دائر کی ہے، دو بار سائفر معاملے پر شامل تفتیش ہو چکا ہوں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے ایس کیس میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا تھا۔

ایف آئی اے کی جانب سے درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی ار) میں شاہ محمود قریشی کو نامزد کیا گیا اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات 5 (معلومات کا غلط استعمال) اور 9 کے ساتھ تعزیرات پاکستان کی سیکشن 34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ 7 مارچ 2022 کو اس وقت کے سیکریٹری خارجہ کو واشنگٹن سے سفارتی سائفر موصول ہوا، 5 اکتوبر 2022 کو ایف آئی اے کے شعبہ انسداد دہشت گردی میں مقدمہ درج کیا گیا اور بتایا گیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے معاونین خفیہ کلاسیفائیڈ دستاویز کی معلومات غیرمجاز افراد کو فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

ایف آئی اے میں درج ایف آئی آر میں عمران خان، شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور ان کے معاونین کو سائفر میں موجود معلومات کے حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرکے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال کر اپنے ذاتی مفاد کے حصول کی کوشش پر نامزد کیا گیا ہے۔

سائفر کے حوالے سے کہا گیا کہ ’انہوں نے بنی گالا (عمران خان کی رہائش گاہ) میں 28 مارچ 2022 کو خفیہ اجلاس منعقد کیا تاکہ اپنے مذموم مقصد کی تکمیل کے لیے سائفر کے جزیات کا غلط استعمال کرکے سازش تیار کی جائے‘۔

مقدمے میں کہا گیا کہ ’ملزم عمران خان نے غلط ارادے کے ساتھ اس کے وقت اپنے پرنسپل سیکریٹری محمد اعظم خان کو اس خفیہ اجلاس میں سائفر کا متن قومی سلامتی کی قیمت پر اپنے ذاتی مفاد کے لیے تبدیل کرتے ہوئے منٹس تیار کرنے کی ہدایت کی‘۔

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ وزیراعظم آفس کو بھیجی گئی سائفر کی کاپی اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے جان بوجھ کر غلط ارادے کے ساتھ اپنے پاس رکھی اور وزارت خارجہ امور کو کبھی واپس نہیں کی۔

مزید بتایا گیا کہ ’مذکورہ سائفر (کلاسیفائیڈ خفیہ دستاویز) تاحال غیر قانونی طور پر عمران خان کے قبضے میں ہے، نامزد شخص کی جانب سے سائفر ٹیلی گرام کا غیرمجاز حصول اور غلط استعمال سے ریاست کا پورا سائفر سیکیورٹی نظام اور بیرون ملک پاکستانی مشنز کے خفیہ پیغام رسانی کا طریقہ کار کمپرومائز ہوا ہے‘۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ’ملزم کے اقدامات سے بالواسطہ یا بلاواسطہ بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچا اور اس سے ریاست پاکستان کو نقصان ہوا۔

ایف آئی اے میں درج مقدمے میں مزید کہا گیا کہ ’مجاز اتھارٹی نے مقدمے کے اندراج کی منظوری دے دی، اسی لیے ایف آئی اے انسداد دہشت گردی ونگ اسلام آباد پولیس اسٹیشن میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5 اور 9 کے تحت تعزیرات پاکستان کی سیکشن 34 ساتھ مقدمہ سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشنل خفیہ معلومات کا غلط استعمال اور سائفر ٹیلی گرام (آفیشل خفیہ دستاویز)کا بدنیتی کے تحت غیرقانونی حصول پر درج کیا گیا ہے اور اعظم خان کا بطور پرنسپل سیکریٹری، سابق وفاقی وزیر اسد عمر اور دیگر ملوث معاونین کے کردار کا تعین تفتیش کے دوران کیا جائے گا‘۔

ایف آئی اے اس وقت اٹک جیل میں قید چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے سفارتی سائفر کی گمشدگی پر تحقیقات کر رہی ہے، جس کو انہوں نے اپنی حکومت کے خاتمے کے لیے ’بیرونی سازش‘ کے طور پر پیش کیا تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں