صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پھیلنے والے آنکھوں کے وائرل انفیکشن آشوب چشم سے بچے اور نو عمر افراد زیادہ متاثر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

کراچی میں گزشتہ 10 دن سے آنکھوں کی بیماری آشوب چشم تیزی سے پھیل رہی ہے، سرکاری ہسپتالوں سے لے کر نجی ہسپتالوں تک یومیہ درجنوں مریض آ رہے ہیں۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق کراچی کے مختلف ہسپتالوں کے شعبہ چشم کے ماہرین کے مطابق آشوب چشم سے زیادہ تر بچے اور کم عمر افراد متاثر ہو رہے ہیں۔

ڈاؤ یونیورسٹی ہسپتال کے اوجھا کیمپس میں شعبہ امراض چشم کے سربراہ پروفیسر نثار احمد سیال کے مطابق آشوب چشم سے اب تک زیادہ طور پر بچے اور کم عمر افراد متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتے سے زیادہ کا وقت گزر جانے کے باوجود تاحال ہسپتال آنے والے مریضوں کی تعداد تقریبا اتنی ہی ہے جتنی پہلے تھی۔

ان کے مطابق پھیلنے والی بیماری آشوب چشم زیادہ متعدی ہے اور وہ ایک سے دوسرے شخص تک تیزی سے منتقل ہو رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق شہر میں ماحولیاتی آلودگی، خراب فضا، ہاتھوں کی صفائی نہ ہونے سمیت دیگر اسی طرح کی دیگر وجوہات کی بنا پر آشوب چشم میں اضافہ ہو رہا ہے۔

نجی ہسپتال کے ڈاکٹر ڈاکٹر شریف ہاشمانی کا کہنا تھا کہ کراچی میں وائرل اور بیکٹیریل آشوب چشم دونوں تیزی سے پھیل رہے ہیں،جس سے متاثرہ افراد کی آنکھیں سرخ یا گلابی ہوجاتی ہیں جب کہ آنکھوں کے گرد سوجن کے علاوہ ان میں شدید خارج بھی ہوتی ہے۔

جناح ہسپتال کے شعبہ امراض کے انچارج ڈاکٹر عزیز آرائیں نے آشوب چشم کو شہر کی خراب فضائی آلودگی سے جوڑا اور کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں سے شہر کا موسم انتہائی خراب ہے، جس وجہ سے وائرس پھیل رہے ہیں۔

ان کے مطابق رواں برس اب تک شہر میں بارشیں نہیں ہوئیں، جس وجہ سے فضائی آلودگی پھیل رہی ہے اور وائرس ہمیشہ ایسے ہی موسم میں پھیلتے ہیں، انفیکشن اور وائرس سخت گرمیوں یا سردیوں میں نہیں پھیلتے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے چند دن میں آشوب چشم میں نمایاں کمی ہوگی۔

’آشوب چشم‘ کو انگریزی میں (conjunctivitis) کہا جاتا ہے جو کہ آنکھوں کا عام وائرل انفیکشن ہوتا ہے اور اس میں آنکھیں گلابی یا سرخ ہوجاتی ہیں اور متاثرہ شخص کی آنکھوں میں خارش رہتی ہے۔

آشوب چشم پھیلنے کے بعد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وائرس میں مبتلا افراد ٹوٹکوں اور دیگر طریقوں کے ذریعے آنکھوں کی تکلیف کم کرنے کی کوشش نہ کریں اور صفائی کا خصوصی خیال رکھیں۔

ماہرین نے تجویز دی کہ آنکھوں کے وائرس سے بچنے کے لیے ہر کوئی صاف کپڑے یا ٹشو پیپر سے آنکھوں کو صاف کرے اور خارش ہونے پر بھی ہر بار نیا ٹشو استعمال کرے۔

ماہرین کے مطابق اب تک کے سامنے آنے والے کیسز میں مریض 10 سے 15 دن کے اندر ٹھیک ہو جاتے ہیں اور انہیں اتنی زیادہ ادویات بھی نہیں دینی پڑتیں اور اب تک پھیلنے والے وائرس کے سنگین نقصانات سامنے نہیں آئے۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں