دنیا بھر میں پھیلنے والی تین بڑی بیماریوں کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے عالمی ادارہ برائے ٹی بی، ملیریا اور ایڈز نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بیماریوں پر قابو پانا مشکل ہوگیا جب کہ دنیا بھر میں ہونے والے تنازعات ان بیماریوں کے بڑھنے کا سبب بن رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق گلوبل فنڈ فار ٹی بی، ایڈز اینڈ ملیریا کے سربراہ نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا بھر میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں اور جنگوں و تنازعات کی وجہ سے مذکورہ تینوں بیماریوں پر قابو پانا چیلنج بن چکا۔

عالمی ادارے کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کورونا کے باعث لگی پابندیوں کے خاتمے کے بعد بڑے پیمانے پر ٹی بی، ایڈز اور ملیریا پر قابو پانے کے اقدامات کیے گئے تھے لیکن سال 2022 کے بعد ہونے والی بڑے پیمانے پر موسمیاتی تبدیلیوں اور جنگوں کے باعث تمام کوششیں بیکار ہوگئیں۔

عالمی فنڈ کے سربراہ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں اور جنگوں و تنازعات کے باعث اب 2030 تک ٹی بی، ایڈز اور ملیریا کے خاتمے کی کوششیں ناکام ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔

عالمی ادارے کا کہنا تھا کہ ملیریا بڑے پیمانے پر براعظم افریقہ میں پھیل رہا ہے اور مذکورہ بیماری پہلے صرف مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتی تھی۔

عالمی ادارہ برائے ایڈز، ٹی بی اور ملیریا کا کہنا تھا کہ شدید موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے، کیوں کہ ایسی صورت میں لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑتے ہیں اور وہ بہت سارے افراد کے ساتھ رہنے پر مجبور ہوتے ہیں، جس وجہ سے بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

عالمی ادارے کے سربراہ نے اعتراف کیا کہ ٹی بی، ایڈز اور ملیریا جیسی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے دنیا کو بہت بڑی رقم کی ضرورت ہے اور دوسرا یہ کہ جنگوں و تنازعات سمیت موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بیماریوں پر قابو پانے کے لیے شروع کی جانے والی سروسز متاثر ہوتی ہیں، جس وجہ سے ان بیماریوں کو ختم کرنا ناممکن بنتا جا رہا ہے۔

عالمی ادارہ برائے ٹی بی، ایڈز اور ملیریا نے مثال دی کہ میانمار، افغانستان، سوڈان اور یوکرین جیسے ممالک میں تنازعات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث تینوں بیماریوں پر قابو پانے کے آپریشنز متاثر ہو رہے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں