8 ہزار میٹر سے زائد بلند 12 چوٹیاں سر کرنے والے کم عمر ترین پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف نے دوسری مرتبہ دنیا کی آٹھویں بلند ترین چوٹی ماؤنٹ مناسلو کو سر کرلیا ہے۔

شہروز کاشف 8 ہزار 163 میٹر بلند چوٹی کی ’ریئل سمٹ‘ پوائنٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، وہ سیون سمٹ ٹریک کا حصہ تھے۔

نوجوان کوہ پیما نے 2021 میں پہلی بار ماؤنٹ مناسلو کو سر کیا تھا، بعد ازاں 2021 میں ہی انکشاف ہوا تھا کہ مناسلو کا رئیل سمٹ پوائنٹ چند میٹر آگے ہے، جس کے بعد انہوں نے مناسلو کو دوبارہ سر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اب انہوں نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ایکس‘ کے ذریعے مناسلو کو دوبارہ سر کرنے کا بتایا ہے۔

فائل فوٹو: ٹوئٹر
فائل فوٹو: ٹوئٹر

اس کے علاوہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے دیگر 2 کوہ پیما بھی 8 ہزار 136 میٹر بلند مناسلو چوٹی کے بیس کیمپ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نائلہ کیانی اور سرباز خان امیجن نیپال مہم کی ٹیم کا حصہ تھے، دونوں بیس کیمپ ون پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

نائلہ کیانی نے ڈان کو بتایا کہ وہ 21 ستمبر تک چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔

اگر وہ چوٹی سر کرنے میں کامیاب ہوگئیں تو یہ نائلہ کیانی کی 8 ہزار میٹر سے زائد بلند 9ویں چوٹی ہوگی، اب تک وہ 8 ہزار میٹر سے زائد بلند 8 چوٹیاں سر کرچکی ہیں جن میں کے ٹو، نانگا پربت، لوٹسے، اناپورنا، گیشربرم ون، گیشربرم ٹو اور براڈ چوٹی اور دیگر شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ہنزہ کے علاقے علی آباد سے تعلق رکھنے والے 32 سالہ سرباز خان بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے کوہ پیمائی کے کریئر کا آغاز 2016 میں کیا تھا۔

وہ 8 ہزار میٹر سے زائد بلند 14 چوٹیوں میں سے 12 چوٹیاں سرکر چکے ہیں، 2019 میں وہ اضافی آکسیجن کے بغیر نیپال کی 8 ہزار 516 میٹر بلند دنیا کی چوتھی بلند ترین چوٹی لوٹسے سر کرنے والے پہلے پاکستانی بنے تھے۔

یہی نہیں بلکہ سرباز خان 2017 میں 8 ہزار 125 میٹر بلند نانگا پربت، 2018 میں 8 ہزار 611 میٹر بلند کے ٹو اور 2019 میں 8 ہزار 163 میٹر بلند براڈ پیک سر کرنے میں کامیاب ہوئے تھے، رواں سال کے اوائل میں وہ 8 ہزار میٹر اونچا اناپورنا پہاڑ، 8 ہزار 848 میٹر بلند ایورسٹ اور 8 ہزار 35 میٹر بلند گیشربرم ٹو سر کرچکے ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں