• KHI: Maghrib 7:23pm Isha 8:49pm
  • LHR: Maghrib 7:07pm Isha 8:43pm
  • ISB: Maghrib 7:17pm Isha 8:57pm
  • KHI: Maghrib 7:23pm Isha 8:49pm
  • LHR: Maghrib 7:07pm Isha 8:43pm
  • ISB: Maghrib 7:17pm Isha 8:57pm

کابل میں پاکستان کے خصوصی نمائندے کی افغان وزیرخارجہ سے ملاقات

شائع September 21, 2023 اپ ڈیٹ September 22, 2023
افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی اور پاکستانی سفیر آصف خان درانی کی ملاقات ہوئی—فوٹو: حافظ ضیا احمد
افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی اور پاکستانی سفیر آصف خان درانی کی ملاقات ہوئی—فوٹو: حافظ ضیا احمد

افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے سفیر آصف خان درانی نے کابل کے دورے میں حکمران طالبان کے عبوری وزیر خارجہ امیرخان متقی سےملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور سرحد کی بندش سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

افغان وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ سفیر آصف خان درانی نے کابل کا غیراعلانیہ دورہ کیا اور عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی سےملاقات۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں افغان وزارت خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیا احمد تاکل نے کہا کہ آج ملاقات میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ مشترکہ کمیٹیاں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیکیورٹی مسائل حل کرنے چاہئیں، سیکیورٹی اور سیاسی مسائل کی وجہ سے اہم راستے بند نہیں ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نمائندہ خصوصی اور افغانستان کے وزیر خارجہ نے مسائل کے حل کے لیے ہنگامی اقدامات اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچنے کی ضرورت پر بات کی۔

افغان وزارت خارجہ کے نائب ترجمان نے کہا کہ پڑوسی اور مسلمان ملکوں کی حیثیت سے پاکستان اور افغانستان کو ایک دوسرے کے خلاف بیانات سے گریز کرنا چاہیے، جس سے دونوں کے درمیان دوریاں پیدا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ امارات اسلامی کی پالیسی کی بنیاد خیرسگالی اور دیانت داری پر ہے۔

افغان ترجمان کے مطابق پاکستانی نمائندہ خصوصی آصف خان درانی نے مطالبہ کیا کہ دونوں ممالک سیکیورٹی مسائل سے متعلق تعاون کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سرحد پر مسافروں کی آمد ورفت، دو طرفہ تجارت اور ٹرانزٹ کا حل نکالے گا۔

حافظ ضیا کے مطابق آصف خان درانی نے کہا کہ پاکستان کئی معاملات میں افغانستان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے اور افغان حکام کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد افغان طلبہ کے لیے اسکالرشپس دوبارہ شروع کرے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے سیکیورٹی مسائل اور پاکستان میں افغان مہاجرین کی گرفتاری، چمن-اسپن بولدک سرحد پر افغان شہریوں کے ساتھ ہونے والے سلوک اور ٹرانزٹ ٹریڈ پر گفتگو کی۔

پاکستان کی جانب اس ملاقات کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

کابل میں پاکستان کے سابق سفیر منصور احمد خان نے ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ آج کا دورہ چترال میں فوجی پوسٹس پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملوں اور طورخم بارڈر کی بندش کے بعد پہلا دورہ ہے۔

منصور احمد خان نے کہا کہ امید ہے کہ اس دورے سے افغان حکومت کی قیادت اور عہدیداروں سے براہ راست بات چیت کا موقع ملے گا تاکہ دوطرفہ مسائل پر کوئی اتفاق رائے ہوجائے خاص طور پر افغان سرزمین پر موجود کالعدم ٹی ٹی پی کے جنگجووں سے نمٹنے کے لیے تعاون پر کوئی بات بن جائے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے نمائندہ خصوصی کا دورہ ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کالعدم ٹی ٹی پی کے حوالے سے کشیدگی پائی جاتی ہے اور پاکستان میں دہشت گردوں کے حملے بھی ہوئے۔

رواں ماہ کے اوائل میں پاک فوج نے بیان میں کہا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی نے خیبرپختونخوا کے ضلع چترال میں فوج کی پوسٹس پر حملے کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کی۔

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ دہشت گردوں کے حملے میں پاک فوج کے 4 اہلکار شہید ہوئے اور مذکورہ حملے میں ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی اور 6 ستمبر کو دو مختلف پوسٹس پر حملہ کیا۔

مزید بتایا گیا تھا کہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران ٹی ٹی پی کے 12 دہشت گرد مارے گئے۔

اسی دن پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان طورخم بارڈر پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا جہاں ایک چیک پوسٹ کی تعمیر کے معاملے پر تنازع کھڑا ہوا تھا، اس کشیدگی کے نتیجے میں طورخم بارڈر 9 روز کے لیے بند کردیا گیا تھا۔

کارٹون

کارٹون : 17 جولائی 2024
کارٹون : 16 جولائی 2024