پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ ڈالر کی افغانستان میں غیر قانونی اسمگلنگ نے پاکستان کی معیشت اور روپے کی قدر کو بری طرح متاثر کیا ہے، ساتھ ہی عالمی ادارے سے افغانستان کی معیشت اور بینکنگ سیکٹر کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان روزہ اتونبیاوا نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ملک کے ڈی فیکٹو حکمرانوں کے ساتھ بات چیت کریں کیونکہ ملک کے مختلف مسائل کے حل کے لیے ’مکالمہ کرنا پہچان دینا نہیں ہے‘ کے رویے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

تاہم سابقہ افغان حکومت کے نمائندے نے اس رائے کی سختی سے مخالفت کی اور اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کو ’طالبان کے اوپر دباو بنائے رکھنا چاہیے‘ تاکہ وہ خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ ’متعصبانہ رویے‘ کو ختم کریں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے کونسل کو بتایا کہ ’پاکستان سے ڈالر کی افغانستان میں ہونے والی غیر قانونی اسمگلنگ نے پاکستانی روپے اور معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔‘

پاکستانی سفیر نے نشاندہی کی کہ جب سے پاکستانی حکام نے ڈالر کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا آغاز کیا ہے تب سے پاکستانی روپے میں ’استحکام‘ اور اس کی قدر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

افغانستان کی کمزور معیشت کے پاکستان پر پڑنے والے اثرات کو نمایاں کرتے ہوئے منیر اکرم نے عالمی ادارے پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں بینکنگ سسٹم کی بحالی، افغانستان کے بیرون ملک موجود اثاثوں کی ریلیز اور واپسی کے لیے مدد فراہم کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی مدد فراہم کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم پاکستان-افغانستان-وسطی ایشیا کے ساتھ ساتھ پاکستان-چین–افغانستان کے درمیان علاقائی روابط کے منصوبوں کے جلد نفاذ کے منتظر ہیں۔

کالعدم ٹی ٹی پی سے خطرہ

پاکستانی سفیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس وقت پاکستان کے لیے ’فوری اور سب سے بڑا خطرہ‘ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ہے جو سرحد پار دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ حالیہ حملوں میں ملوث ٹی ٹی پی عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور آئندہ کالعدم تنظیم کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی سے روکنے کے لیے مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے، اگر ان اقدامات پر عمل در آمد کیا گیا تو پاکستان اس کا خیر مقدم کرے گا۔‘

منیر اکرم نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشت گرد گروپوں کو بے اثر نہیں کیا جاتا تب تک یہ افغانستان کے پڑوسی ممالک اور عالمی برادری کے لیے خطرہ بنے رہیں گے۔

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ روزہ اتونبیاوا نے سلامتی کونسل کو اس بات سے آگاہ کیا کہ عالمی برادری کو خواتین کے حقوق اور جامع طرز حکمرانی کے حوالے سے طالبان کے نقطہ نظر سے ’گہرے اختلاف‘ کے باوجود افغانستان میں ان کے ساتھ بات چیت جاری رکھنی چاہیے۔

انہوں نے افغان خواتین کے 500 سے زائد انٹرویوز پر مبنی اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیا، جن میں سے 46 فیصد نے کہا کہ طالبان کو کسی بھی صورت میں تسلیم نہیں کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تاہم سوال یہ ہے کہ آیا ان پالیسیوں کے باوجود ڈی فیکٹو حکام کے ساتھ مشغول رہنا ہے، یا ان کی وجہ سے مشغول رہنا چھوڑ دینا ہے۔‘

روزہ اتونبیاوا نے کہا کہ ’مکالمہ کرنا تسلیم کرنا نہیں ہے، بات چیت کا مطلب ان پالیسیوں کو قبول کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کے برعکس بات چیت اور مصروفیت یہ ہے کہ ہم حالات کو کس طرح تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

تبصرے (0) بند ہیں