مہنگائی بڑھ کر 31 فیصد تک پہنچنے کا امکان

30 ستمبر 2023
اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2024  میں 22-20 فیصد اوسط مہنگائی کا تخمینہ لگایا ہے—فائل فوٹو: شہاب نفیس
اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2024 میں 22-20 فیصد اوسط مہنگائی کا تخمینہ لگایا ہے—فائل فوٹو: شہاب نفیس

وزارت خزانہ نے پیش گوئی کی ہے کہ مہنگائی ستمبر میں 3-4 فیصد پوائنٹس اضافے کے بعد 31 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جو گزشتہ مہینے 27.4 فیصد ریکارڈ کی گھی تھی، اس کی بنیادی وجہ ایندھن کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ستمبر کے لیے اپنے ماہانہ معاشی منظرنامے میں وزارت خزانہ کے اکنامک ایڈوائزر ونگ نے بتایا کہ ستمبر میں دوہرے ہندسے کے بنیادی اثر کی وجہ سے مہنگائی میں کمی کا امکان تھا، لیکن پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ نے اس اثر کو ختم کر دیا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ توانائی کی قیمتیں بڑھنے سے آنے والے مہینوں میں مہنگائی پر مزید دباؤ آنے کا امکان ہے کیونکہ ان قیمتوں کی ایڈجسٹمنٹ سے نقل و حمل کے اخراجات، اشیائے ضروریہ اور خدمات پر اضافی بوجھ پڑنے کی توقع ہے۔

ستمبر میں مہنگائی 29 فیصد سے 31 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔

اگست میں مہنگائی تنزلی کے بعد 27.3 فیصد پر آ گئی تھی، جو مئی میں 38 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچی تھی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے زرعی پیداوار میں بہتری اور زرمبادلہ کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ پر قابو پانے کے لیے انتظامی اقدامات کرنے کے سبب 2024 میں مہنگائی میں تیزی سے تنزلی کی پیش گوئی کی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2023 میں 29.2 فیصد مہنگائی کے مقابلے میں مالی سال 2024 کے لیے 22-20 فیصد اوسط مہنگائی کا تخمینہ لگایا ہے۔

رپورٹ میں حکومت کی جانب سے پہلے ہی اٹھائے گئے اقدامات اور گرتی ہوئی بین الاقوامی قیمتوں پر روشنی ڈالی گئی ہے جو آنے والے مہینوں میں مہنگائی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ اشیائے ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے حکومت کے سخت انتظامی اقدامات اور غیر ملکی کرنسی کے غیر قانونی کاروبار کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں مہنگائی کے دباؤ میں کمی آئی ہے۔

تاہم، تیل کی قیمتوں کے بین الاقوامی دباؤ اور توانائی کی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کے پیش نظر افراط زر میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی۔

حکومت نے غیر قانونی فاریکس ڈیلرز اور اجناس کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف آپریشن شروع کیا ہے جس سے شرح تبادلہ میں استحکام آیا ہے اور اشیا کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔

مرکزی بینک نے بنیادی شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ افراط زر کی توقعات قابو میں ہیں، ڈالر کے مقابلے پاکستانی کرنسی کی قدر جون 2022 سے 45 فیصد گرواٹ کے بعد اگست میں انٹربینک مارکیٹ میں 295 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 304 روپے تک پہنچ گئی تھی۔

روپے کی گرتی قدر کے سبب گزشتہ برس ریکارڈ مہنگائی ہوئی، اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومت نے ایسی ایکسچینج کمپنیز کے خلاف کاررائی شروع کی جو سٹہ بازی کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں