قاہرہ امن اجلاس: غزہ میں ہولناک حالات کے پیش نظر جنگ بندی کی جائے، سربراہ اقوام متحدہ

اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2023
رپورٹ کے مطابق مغربی ممالک نے حماس کے زیرحراست افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا—فوٹوؒ اے ایف پی
رپورٹ کے مطابق مغربی ممالک نے حماس کے زیرحراست افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا—فوٹوؒ اے ایف پی
— فوتو: اے بی سی نیوز / اسکرین گریب
— فوتو: اے بی سی نیوز / اسکرین گریب

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل اور حماس پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں پیدا ہونے والی ہولناک صورت حال کے خاتمے کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کریں۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں غزہ کے حوالے سےمنعقدہ امن اجلاس میں شرکا پر زور دیا کہ انسانی بنیاد پر اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی ضروری ہے کیونکہ غزہ میں صورت حال انتہائی گمبھیر ہے۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ فلسطین کے 24 لاکھ افراد انسانی بحران سے گزر رہے ہیں جہاں ہزاروں افراد جاں بحق اور 10 لاکھ سے زائد بے گھر ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی کے عوام کے خدشات جائز اور قانونی ہیں جہاں 56 برس سے قبضہ ہے اور اس کا کوئی خاتمہ نہیں ہے تاہم انہوں نے زور دیا کہ حماس کے اقدامات کی بھی کی کوئی توجیہ نہیں دی جاسکتی۔

رپورٹ کے مطابق اجلاس بے نتیجہ ختم ہوا جہاں مشترکہ اعلامیے پر اتفاق نہ ہوسکا۔

عرب سفارت کاروں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مغربی ممالک کے نمائندے چاہتے تھے کہ حماس کے اقدامات کی مذمت کی جائے، جس سے عرب رہنماؤں نے انکار کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک چاہتے تھے کہ حماس کی حراست میں موجود افراد کو بھی رہا کر دیا جائے۔

مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے عرب نمائندوں کی منظوری سے جاری بیان میں کہا کہ اس جنگ سے عالمی برادری کے اقدار کو بری طرح روند ڈالا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ عالمی رہنما تنازع کے خاتمے کی بات کرتے ہیں لیکن اس مکمل طور پر ختم نہیں کرتے اور ایسے عارضی حل تجویز کیے جاتے ہیں جو مصیبت زدہ لوگوں کی معمولی مطالبات بھی پورے نہیں کرتے۔

حماس کی جانب سے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر کیے گئے حملے میں 1400 اسرائیلی ہلاک ہوگئے تھے اور 200 سے زائد اسرائیلیوں غیرملکیوں کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

اسرائیل کی فضائی کارروائیوں سے اب تک غزہ میں 4 ہزار 300 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوگئے ہیں اور غزہ کی پٹی میں پانی، ایندھن، بجلی اور کھانے کی اشیا ختم ہوگئے ہیں جہاں اسرائیل کی سرحد بند کر دی تھی۔

نگران وزیراعظم کا فلسطینی صدر سے رابطہ

وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ انوار الحق کاکڑ اور فلسطین کے صدر محمود عباس نے اس امر پر زور دیا ہے کہ عالمی برادری کو فوری طورپر غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جاری قتل عام روکنے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

بیان میں کہا گیا کہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے فلسطینی صدر محمود عباس سے غاصب اسرائیلی فوج کی جانب سے معصوم اور نہتے فلسطینیوں پر غزہ اور مغربی کنارے میں ڈھائے جانے والے حالیہ مظالم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کے لیے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔

نگران وزیر اعظم نے اسرائیلی قابض فوج کی جانب سے فلسطینیوں پر مسلسل، بلاتفریق اور بدترین بمباری بالخصوص الاہلی ہسپتال پر بمباری کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی۔

وزیراعظم نے اسرائیل کی بمباری اور جارحیت کو دانستہ اور قابل نفرت قرار دیا جن کے نتیجے میں اب ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے اس امر پر زور دیا کہ عالمی برادری کو فوری طور پر اسرائیل کے اس قتل عام کو روکنے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے فوری طور پراسرائیلی قابض فوج کی جانب سے غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ اسرائیلی بربریت کے متاثرین تک طبی و دیگر امداد پہنچ سکے۔

وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کو فوری طور پر ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرکے اس صورت حال کو ٹھیک کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ انصاف، انسانیت اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری یقینی بنائی جاسکے۔

انہوں نے فلسطین کے تنازع کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا اور کہا کہ یہ اسی وقت ممکن ہے جب دو ریاستی حل جس میں 1967 سے پہلے کی سرحدوں اور مشرقی القدس شریف دارالحکومت کے ساتھ پائیدار اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے پاکستان کی فلسطینی عوام کے ساتھ ان کی اسرائیلی قبضے سے آزادی میں دیرینہ اور مؤثر حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

رفح کراسنگ کے ذریعے امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہونا شروع

انسانی امداد سے لدے ٹرک رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ کی پٹی میں داخل ہونا شروع ہو گئے۔

قطر کے سرکاری ٹی وی کی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سامان سے لدے ٹرک غزہ میں داخل ہو رہے ہیں۔

رائٹرز نے سیکیورٹی ذرائع اور ایک امدادی کارکن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ادویات لے جانے والے ٹرک تیار کیے جا رہے ہیں اور سرحدی عملہ کراسنگ کے مصر کی طرف موجود ہے۔

فلسطین کے حق میں ہزاروں افراد کا آسٹریلیا میں مارچ

آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر سڈنی میں ہزاروں افراد نے فلسطین کی حمایت میں ہونے والے مارچ میں حصہ لیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ریلی کے انعقاد کی آخری لمحات میں منظوری مل گئی، اس سے قبل کی ریلی میں کچھ مظاہرین کی جانب سے یہودی مخالف نعرے لگائے جانے کے بعد تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔

فلسطین ایکشن گروپ نے بتایا کہ آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر سڈنی میں منعقد کیے جانے والے مارچ میں تقریباً 15 ہزا فراد نے شرکت کی، جبکہ مظاہرین ہاتھوں میں فلسطینی جھنڈے تھامے نعرے لگا رہے تھے کہ ’فلسطین کبھی ختم نہیں ہوگا‘۔

پولیس، بشمول گھوڑے پر سوار افسران اس موقع پر گشت کر رہے تھے، جس نے شہر کی سڑکیں بند کر دی تھیں، اور پولیس کا ایک ہیلی کاپٹر فضا سے جائزہ لے رہا تھا۔

یہاں سے نہیں جائیں گے، اپنی سر زمین پر رہیں گے، فلسطینی صدر

— فائل فوٹو: اے پی
— فائل فوٹو: اے پی

فلسطینی صدر محمود عباس نے قاہرہ امن سمٹ میں ابتدائی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم یہاں سے نہیں جائیں گے، ہم اپنی سرزمین پر ہی رہیں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق مصر میں کانفرنس جاری ہے جبکہ اسرائیل غزہ پر زمینی حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ اسرائیل کے حملے میں اب تک 4 ہزار 100 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ انسانی بحران بڑھ رہا ہے۔

جسن ٹروڈو کا محمد بن سلمان سے تبادلہ خیال

کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اسرائیل۔حماس تنازع کے حوالے سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے جسٹن ٹروڈو کے دفتر کے حوالے سے بتایا کہ کینیڈین وزیراعظم نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ اسرائیل، مغربی کنارے اور غزہ کی صورتحال پر بات چیت کی ہے۔

دونوں رہنماؤں نے تنازع کے انسانی اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا، اور اس اہمیت پر زور دیا کہ فریقین شہریوں کی حفاظت کریں اور متاثرہ علاقوں تک انسانی ہمدردی کی رسائی کو یقینی بنائیں۔

اسرائیل کا ’کامیابی حاصل کرنے تک لڑائی‘ جاری رکھنے کا عزم

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے غزہ میں ’کامیابی حاصل کرنے تک لڑائی‘ جاری رکھنے کا عزم کیا ہے، اور اپنی فوج کی جانب سے بمباری اور متوقع حملے نہ روکنے کا عندیہ دیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے دو مغوی واپس گھر پہنچ چکے ہیں، ہم تمام مغویوں اور لاپتا افراد کی واپسی کی کوششیں نہیں چھوڑیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اُس وقت تک لڑیں گے جب تک فتح نہ حاصل کر لیں۔

غزہ میں انٹرنیٹ سروسز متاثر، نیٹ بلاکس

انٹرنیٹ ٹریک کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس نے کہا ہے کہ غزہ میں انٹرنیٹ سروسز متاثر ہوئی ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ میٹرکس ’اسپیڈ کلکس‘ پر سروس کو ظاہر نہیں کرہی، جو غزہ کی پٹی میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والے بڑے اداروں میں سے ایک ہے، جبکہ شمالی غزہ میں کئی لائیو سٹریمز آف لائن ہو جاتے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں