اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، اقوام متحدہ سیز فائر کیلئے کردار ادا کرے، دفتر خارجہ

اپ ڈیٹ 26 اکتوبر 2023
ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ بھارت، پاکستان مخالف پروپیگنڈے میں مسلسل مصروف رہتا ہے— فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان
ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ بھارت، پاکستان مخالف پروپیگنڈے میں مسلسل مصروف رہتا ہے— فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، امدادی کارکنان پر بمباری روک کر ملوث عناصر کو گرفتار کیا جائے۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ فلسطین میں صورتحال تشویش ہے، پاکستان غزہ میں اسرائیلی بمباری پر مذمت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک غزہ میں 6 ہزار 700 شہریوں کی شہادت ہوچکی ہے، دو ہزار سے زائد معصوم بچے شہید ہوچکے ہیں، اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پرامید ہے کہ آج جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں جنگ بندی پر پیش رفت ہوگی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، اسرائیل اور حماس کے درمیان غیر مشروط سیز فائر کروانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔

ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان اس فلسطینی ریاست کی حمایت کرتا جس کا دارالخلافہ القدس الشریف ہے۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے اجلاس اسرائیل۔فلسطین مسئلے کا فوری حل نکالے گا، پاکستان کا فلسطین پر مؤقف تبدیل نہیں ہوا، پاکستان غیر مشروط جنگ بندی چاہتا ہے، غزہ کا محاصرہ فوری ختم کرکے خوراک، ادویات و ضروری اشیا کی فراہمی ممکن بنائی جائے۔

ترجمان نے کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ غیر معمولی یو این جنرل اسمبلی فلسطین کے عوام کی آواز بنے گی، امدادی کارکنان پر بمباری روک کر ملوث عناصر کو گرفتار کیا جائے، جنرل اسمبلی غیر مشروط سیز فائر کروانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا کہ وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی بشکک میں ایس سی او کونسل آف فارن منسٹرز اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں، وہ سائیڈ لائن پر ملاقات کر رہے ہیں، سی ایف ایم کے ذریعے خطے میں رابطوں، قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان ایس سی او سی ایف ایم کے آئندہ اجلاس کے لیے نشست سنبھالے گا، آج اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔

ترجمان نے کہا کہ فلسطین میں اسرائیلی قابض افواج کی طرف سے نافذ کردہ اقدامات کو بھارت نے اپنے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مقبوضہ علاقے کی آبادیاتی نوعیت کو تبدیل کرنے کی صریح غیر قانونی کوششوں کے ساتھ نقل کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کی طرح جموں و کشمیر کے عوام بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر ہیں جو ان کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نوآبادیاتی ماضی سے وابستہ جڑیں مسئلہ فلسطین کی طرح تنازع جموں و کشمیر سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔

ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ کل جنوبی ایشیا کی تاریخ کے ایک سیاہ دن کے 76 سال مکمل ہوجائیں گے، بھارتی قابض افواج نے 27 اکتوبر 1947 کو جموں و کشمیر میں اپنا غاصبانہ تسلط جمایا، اس طرح کشمیری عوام کے لیے میں ایک تاریک باب کا آغاز ہوا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے اپنی سرزمین پر غیر قانونی قبضہ کو کبھی قبول نہیں کیا ہے اور نہ ہی بھارت کی طرف سے انہیں طاقت کے ذریعے دبانے اور انہیں اپنی ہی سرزمین پر ایک بے اختیار اقلیت میں تبدیل کرنے کی منظم مہم کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

’بے دخلی کی پالیسی صرف افغان شہریوں کے لیے نہیں‘

ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت حاصل نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے غیرقانونی تارکین وطن کو واپس بھجوانے کا فیصلہ قانون کے مطابق کیا ہے، جو غیر قانونی ہیں ان کے خلاف قانون کے مطابق سزا مقرر ہے، پاکستان کی سیکیورٹی اور معیشت کی خاطر پاکستان نے فیصلہ لیا ہے، ہم نے افغان عبوری حکومت کو افغان مہاجرین کی واپسی پر اعتماد میں لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں بتایا ہے کہ یہ پالیسی صرف افغان شہریوں کے لیے نہیں بلکہ سب ممالک کے لیے ہیں، یکم نومبر سے غیرقانونی تارکین وطن کو جبری واپس بھجوایا یا گرفتار کیا جائے گا، دوست ملک کی جانب سے افغان شہریوں کو اپنے ملک لے جانے کے لیے درخواست کی ہے، وزارت داخلہ کی کلیئرنس کے بعد ان کو بھجوایا جائے گا، پاکستان نے غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھجوانے کا فیصلہ قانون کے مطابق کیا ہے۔

ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ وزارت داخلہ کی کلیئرنس کے بعد ان کو بھجوایا جائے گا، افغانستان میں عبیدالرحمٰن پاکستان کے ناظم الامور ہیں، وہ تاحکم ثانی اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے اسلحے کی ایکسپورٹ پروٹوکول کے ذریعے کرتا ہے، یوکرین کو پاکستان نے کوئی اسلحہ فراہم نہیں کیا، ہمارے علم میں نہیں ہے کہ یوکرین میں پاکستان کا بنا کونسا اسلحہ استعمال ہوا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بیرون ممالک کے لوگوں کو شکار کے لیے صوبے لائسنس فراہم کرتے ہیں، شکار کی فیس صوبے وصول کرتے ہیں، شکار کی غرض سے آنے والے ان علاقوں میں ترقیاتی اور معاشی منصوبے بھی پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں