سینیٹ کی فوجی عدالتوں سے متعلق قرارداد اکثریت کی رائے نہیں ہے، رضا ربانی

20 نومبر 2023
رضا ربانی نے کہا کہ شہریوں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل غیرآئینی ہے—فوٹو: ڈان نیوز
رضا ربانی نے کہا کہ شہریوں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل غیرآئینی ہے—فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضاربانی نے حال ہی میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے حق میں سینیٹ سے منظور ہونے والی قرارداد پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اکثریت کی رائے نہیں ہے۔

چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس کے دوران رضاربانی نے کہا کہ کہا گیا کہ میں نے فوجی عدالتوں کے حق میں ووٹ دیا، بل پر ووٹ کے وقت کہا تھا پارٹی ڈسپلن کا پابند ہوں، اس بل کا تعلق دہشت گردوں کے لیے فوجی عدالت کا تھا اور میں اس اقدام پر اس وقت بھی شرمندہ تھا اور آج بھی کہتا ہوں کہ اس وقت ووٹ دینے پر شرمبدہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ قردارداد میں اجازت دی گئی ہے کہ پاکستان کے شہریوں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیا جائے، یہ آئین کے خلاف ہے اور میں اس کی مخالفت کرتا رہوں گا۔

ان کا کہنا تھاکہ پارلیمنٹ میں اس طرح کسی معاملے کو بلڈوز کرنا، جس کے لیے اکثریت حاصل نہ ہو، مناسب نہیں ہے۔

پی پی پی کے سینیٹر نے کہا کہ کہا گیا کہ جو رضا ربانی یا مشتاق ہیں وہ اس ایوان کی رضا ہے اور کوئی رکن کہے تو وہ رضا نہیں، ابھی اس قرارداد کو ایوان میں پیش کرکے دیکھیں کہ اس کو ایوان کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے یا نہیں۔

سینٹر مشتاق نے فوجی عدالتوں کے خلاف قرراداد جمع کرائی اور میں اس قرارداد کی مکمل حمایت کرتا ہوں، جس پر چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ معاملہ اب عدالت میں ہے اور رضاربانی نے خود یہ بتا دیا ہے۔

فوجی عدالتوں سے متعلق فیصلے کے خلاف قرارداد

سینیٹر دلاور خان کی جانب سے سینیٹ میں 13 نومبر کو پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ مسلح افواج کے خلاف تشدد کے ملزمان کا ٹرائل پاکستان کے موجودہ آئینی فریم ورک اور قانونی نظام کے مطابق ایک مناسب اور متناسب ردعمل ہے۔

قرارداد میں بتایا گیا تھا کہ ملک کے آئینی فریم ورک کے اندر، آرمی ایکٹ کے تحت ریاست مخالف توڑ پھوڑ اور تشدد کے ملزمان کا ٹرائل اس طرح کی کارروائیوں کے خلاف ایک رکاوٹ کا کام کرتا ہے، ہم شہدا کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں جنہوں نے ملک کے لیے نمایاں قربانیاں دی ہیں۔

سینیٹردلاور نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے عدم تحفظ کا اظہار کیا گیا ہے اور شہدا کے اہل خانہ کو تشویش ہے کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہ ہونے سے دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذمہ داروں کی حوصلہ افزائی کا امکان ہے۔

مزید بتایا گیا تھا کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج، شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شہدا کی قربانیوں کو کالعدم قرار دیا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا تھا کہ فوجی عدالتوں نے دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کو یقینی بنا کر دہشت گردی سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ یہ فیصلہ شہادت کے جذبے کو ترک کرتے ہوئے دہشت گردوں، ریاست مخالف عناصر، غیر ملکی ایجنٹوں اور جاسوسوں کا عام عدالتوں میں ٹرائل کرنے کے لیے نرمی فراہم کرتا ہے اور عدالت عظمیٰ نے موجودہ طریقہ کار کو مدنظر نہیں رکھا۔

قرارداد میں کہا گیا تھا کہ فوجی عدالتوں کی طرف سے دی جانے والی سزائیں صوابدیدی نہیں ہیں اور مناسب عمل اور رسمی کارروائیوں کے بعد سنائی جاتی ہیں، فوجی عدالتوں کے احکامات کے خلاف اپیل کے عمل کی موجودگی میں جس میں چیف آف آرمی سٹاف اور صدر سے اپیل کے مواقع اور عدالتوں میں رٹ پٹیشنز دائر کرنے کا اختیار بھی شامل ہے۔

فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ان فیصلوں کے خلاف اپیلیں سپریم کورٹ تک بھی پہنچ سکتی ہیں لیکن اس سے نظر انداز کیا گیا، آرمی ایکٹ کی دفعات اور بنیادی طریقہ کار اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 10-اے کے تحت منصفانہ ٹرائل کے حق کی خلاف ورزی نہ ہو۔

قرارداد میں کہا گیا تھا کہ سویلین کے مقدمات خصوصی عدالتوں میں چلنے چاہئیں، خصوصی عدالتوں سے متعلق سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے 23 اکتوبر کو فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف دائر درخواستیں منظور کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کو کالعدم قرار دیا تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں