سینیئر اداکارہ سیمی راحیل کا کہنا ہے کہ اگرچہ بعض ہدایت کار اب بھی صلاحیتوں کو دیکھ کر اداکاروں کو کاسٹ کرتے ہیں، تاہم زیادہ تر ڈائریکٹر انہیں کاسٹ کرتے ہیں جو انسٹاگرام پر اچھا میک اپ کرلیتی ہیں اور جن کی تھوڑی سی اردو صاف ہوتی ہے۔

سیمی راحیل نے کامیڈی پروگرام ’ہنسنا منع ہے‘ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے کیریئر سمیت شوبز انڈسٹری کے معاملات پر کھل کر بات کی۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بچوں کے پروگرام سے پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) سے کیریئر کی شروعات کی تھی لیکن جلد ہی انہیں مرکزی کردار میں کاسٹ کرلیا گیا۔

ان کے مطابق اس وقت کے پروڈیوسر نثار حسین نے ان کا مذکورہ پروگرام دیکھا تو انہیں بلالیا اور پھر ’ایک محبت، سو افسانے‘ میں اہم کردار دے دیا، انہیں سمجھ نہیں آیا کہ انہوں نے کم عمری میں کیسے وہ کردار ادا کیا۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کی عمر بمشکل 16 سال ہوگی اور انہیں دیکھتے ہی دیکھتے شہرت مل گئی۔

سیمی راحیل کے مطابق انہوں نے 1973 میں اداکاری کا آغاز کیا اور تب سے اب تک کام کرتی آرہی ہیں۔

انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ شوبز انڈسٹری میں بھی اقربا پروری، گروپ بندیاں، پسند اور ناپسند سمیت سیاست موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام باتیں دنیا کی انڈسٹری اور ہر شعبے میں موجود ہیں بلکہ یہ باتیں انسان کی فطرت میں بھی شامل ہیں۔

ماضی پر بات کرتے ہوئے سیمی راحیل کا کہنا تھا کہ جنرل ضیا کے دور سے قبل انہوں نے نیشنل آرٹس کالج (این سی اے) لاہور سے تعلیم حاصل کی اور وہ زمانہ طالب علمی میں اس وقت جینز پینٹ اور ٹی شرٹ پہن کر شہر کی گلیوں میں گھومتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جنرل ضیا کے دور کے بعد لوگوں کی سوچ اور زاویے تبدیل ہوئے، انہوں نے ڈنڈے کے زور پر لوگوں کو مذہب کی جانب مائل کیا اور اب لباس، ہنسنے، مسکرانے اور چلنے سے بھی لوگوں کی شخصیت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

سیمی راحیل کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ پاکستانی معاشرہ تنگ نظر ہوگیا ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ لوگوں کی سوچ چھوٹی ہوگئی ہے۔

انہوں نے مثال دی کہ ٹک ٹاک اور انسٹاگرام کو دیکھ لیں، کسی کو یہ نہیں لگے گا کہ پاکستانی معاشرہ تنگ نظری کا شکار ہے۔

بیٹے دانیال راحیل اور بیٹی مہرین راحیل کی اداکاری سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ کون بہتر اداکار ہے لیکن ان کے مطابق دونوں کے بعض ڈرامے اچھے ہیں۔

سیمی راحیل کا کہنا تھا کہ شوبز انڈسٹری میں بعض ایسے اداکار بھی ہیں جو کہ درحقیقت میں اداکار نہیں بلکہ کمائی کرنے والے لوگ ہیں، انہیں دیکھنے کے بعد لوگ تک انہیں بھول جاتے ہیں، ان کے کام کو ہی یاد نہیں رکھتے۔

تاہم انہوں نے ایسے اداکاروں کا نام نہیں بتایا اور کہا کہ وہ تب تک لوگوں کو یاد رہتے ہیں جب تک وہ اسکرین پر نظر آتے رہیں گے۔

سینیئر اداکارہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ اب بھی بعض ہدایت کار صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اداکاروں کو کاسٹ کرتے ہیں، تاہم زیادہ تر اب انسٹاگرام کو دیکھ کر کاسٹنگ کیا کرتے ہیں۔

سیمی راحیل کا کہنا تھا کہ ہدایت کار دیکھتے ہیں کہ انسٹاگرام پر کس نے میک اپ اچھا کیا ہوا ہے اور کس کی اردو صاف ہے، پھر اسے کاسٹ کرلیتے ہیں، تاہم انہوں نے ایسے ہدایت کاروں اور اداکاروں کے نام نہیں بتائے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں