شیرافضل مروت کا عمران خان کی پارٹی چیئرمین شپ سے دستبرداری کا دعویٰ، ترجمان کی تردید

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2023
شیرافضل مروت نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کی — فوٹو: ڈان نیوز
شیرافضل مروت نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کی — فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل و پارٹی کے سینئر نائب صدر شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ توشہ خانہ کیس میں نااہلی کے پیش نظر سابق وزیراعظم نے اس دفعہ ازخود پارٹی کے چیئرمین کا انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم تحریک انصاف کے ترجمان نے ان کے اس بیان کی تردید کی ہے۔

اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل خان مروت نے کہا کہ ’آج ہم نے عمران خان کو آگاہ کیا تھا کہ ان کے اوپر نااہلی کی تلوار لٹک گئی ہے اور الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کا محرک بھی یہی تھا کہ عمران خان کو پی ٹی آئی کی چیئرمین شپ سے ہٹایا جائے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’قانونی قدغن کی وجہ سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اس دفعہ چیئرمین پی ٹی آئی کے امیدوار نہیں ہوں گے‘۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ’قانونی قدغن، توشہ خانہ کیس کے فیصلے میں نااہلی کی وجہ سے عمران خان اس دفعہ آئینی اور قانونی طور پر پارٹی کے چیئرمین کا الیکشن نہیں لڑ سکتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’خان صاحب نے خود یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس دفعہ چیئرمین پی ٹی آئی کے عہدے کے لیے انتخاب نہیں لڑیں گے اور اتفاق رائے سے فیصلہ ہوا ہے کہ عدالت کی جانب سے جونہی نااہلی کا یہ فیصلہ ختم ہوگا تو انہیں دوبارہ پی ٹی آئی کا چیئرمین بنادیا جائے گا‘۔

شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ’جو بھی انتخابات ہوں گے، عمران خان چیئرمین پی ٹی آئی ہیں، یہ وقتی صعوبتیں ہیں، جب بھی یہ نااہلی ختم ہوگی عمران خان دوبارہ پی ٹی آئی کے چیئرمین ہوں گے‘۔

شیرافضل کا بیان درست ہے تاہم حتمی اعلان کل ہوگا، سینیٹر علی ظفر

جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ ’عمران خان سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے کہا تھا کہ سب سے مشاورت کرکے اپنی رائے دوں تو ان کے ساتھ بیٹھ کردو،تین فیصلے ہوئے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن آف پاکستان کا حکم چیلنج کرنے کا فیصلہ ہوا اور ان کو مشورہ دیا کہ ہمیں انٹراپارٹی انتخابات کرانے چاہیے کیونکہ ہمیں کسی نہ کسی طرح تاثر مل رہا ہے کہ الیکشن کمیشن کوشش کر رہا ہے کہ انتخابات میں پی ٹی آئی کو بلے کا نشان نہ دیا جائے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے انٹراپارٹی انتخابات سے اتفاق کیا، پینلز یا اوپن انتخابات کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا اور مشاورت ضرور ہوئی کہ کیا عمران خان کو انتخابات میں حصہ لینا چاہیے یا فیصلے معطل کرانا چاہیے اور فیصلوں کا انتظار کریں‘۔

علی ظفر نے کہا کہ ’ہم نے فیصلہ کیا کہ کوئی خدشہ ہے کہ عمران خان انتخاب میں حصہ لیتے ہیں اور الیکشن کمیشن کسی قسم کا اعتراض لگا لیتا ہے تو اسے بہتر ہے کہ ہم فی الحال انتخابات کرائیں، جس میں عمران خان بے شک نہ ہوں اور کسی اور کو نامزد کریں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اس کا حتمی قانونی فیصلہ کرنا ہے اور پھر اس کا اعلان کرنا ہے کہ کیا عمران خان الیکشن لڑ رہے ہیں یا نہیں اس کا اعلان کل ہوگا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس الیکشن کا بنیادی مقصد ہوگا کہ عمران خان کے خلاف جھوٹے مقدمے بنے ہوئے ہیں اور الیکشن کمیشن بھی کوشش کر رہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح ان کو نااہل قرار دے اور انتخابات مسترد کرے اور انتخابی نشان نہ دے تو ان سارے مسائل سے بچنا ہماری نظر میں بہتر ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر وہ کسی کو نامزد کرتے ہیں اور اس پر حتمی فیصلہ ہوجاتا ہے تو پھر اسی پینل کے مطابق انتخابات ہوں گے، اس میں کوئی حصہ لے سکتا ہے اور جیت سکتا ہے کیونکہ انتخابات اوپن ہیں‘۔

علی ظفر نے کہا کہ ’جس شخص پر عمران خان نے کہا کہ اگر میں نہیں حصہ نہیں سکا تو ان کو آپ انتخاب میں شامل کریں اور 3 سے 4 نام زیر بحث آئے اور ان میں سے ایک انہوں منتخب کیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں اس شخص کا نام اس لیے ظاہر نہیں کرسکتا کیونکہ ہمارا فیصلہ یہی ہوا تھا کہ پہلے ہم قانونی مشاورت کرلیں اور اگر عمران خان انتخاب نہ لڑیں تو پھر کل ہم ان کے نام کا اعلان کردیں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ شیر افضل مروت’درست فرما رہے ہیں، وہ ہمارے ساتھ تھے، انہوں نے میڈیا میں جو پیغام دیا وہ درست ہے اور پی ٹی آئی کی طرف سے جو پریس ریلیز آئی ہے وہ بھی درست ہے کیونکہ حتمی فیصلے کا اعلان کل ہوگا’۔

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ ’عمران خان نے اپنی جگہ کون ہوگا اس کا نام بتا دیا ہے، اس میں کوئی کنفیوژن نہیں ہے کہ وہ کون ہے اور کل اس کا اعلان ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں واضح کردوں کہ عمران خان پارٹی کے سربراہ رہیں گے، چاہے ان کو چیئرمین بلائیں یا نہ بلائیں وہ پی ٹی آئی ہے اور ان کے بغیر پی ٹی آئی کچھ نہیں ہے اور آئینی نام سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے اور یہ وقتی ہے اور الیکشن کمیشن نے مختلف فیصلوں کی وجہ سے ایک رکاوٹ کھڑی کی ہے اور اس کے لیے ہم نے حکمت عملی بنائی ہے‘۔

ترجمان پی ٹی آئی کی شیر افضل کے بیان کی تردید

دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ترجمان نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد اور چیئرمین عمران خان کے نئی مدت کے لیے انتخاب میں حصہ لینے کے معاملے پر میڈیا میں کی جانے والی قیاس آرائیوں کی سختی سے تر دید کی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے الیکشن کمیشن کے حکم پر کروائے جانے والے انٹراپارٹی انتخابات میں بطور چیئرمین حصہ نہ لینے کے حوالے سے سینئر رہنما کے دعویٰ کی تر دید کی جاتی ہے او ر انٹرا پارٹی انتخاب کے انعقاد کے حوالے سے تمام اہم امور پر غور و خوض کا سلسلہ جاری ہے۔

عمران خان کے وکیل کا بیان رد کرتے ہوئے کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی انتخابات سے دستبرداری یا کسی اور رہنما کی نامزدگی کا ہرگز کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ترجمان پی ٹی آئی نے کہا کہ انٹراپارٹی انتخابات کے انعقاد، تاریخ و طریقہ کار اور امیدواران کے تعین سمیت تمام اہم معاملات پر جونہی قیادت کسی نتیجے پر پہنچے گی، اسے باضابطہ طور پر جاری کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 20 نومبر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی کو 20 روز میں انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کا حکم دے دیا تھا۔

الیکشن کمیشن کے رکن سندھ نثار درانی کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 5 سماعتیں کی تھیں جہاں پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر گوہر علی خان وکیل کے طور پر پیش ہوتے رہے تھے۔

لیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق پی ٹی آئی کو 2 اگست کو نوٹس جاری کیا تھا، نوٹس انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرانے پر پی ٹی آئی کو بلے کے نشان کے لیے نااہل قرار دینے سے متعلق تھا۔

الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا تھا، نوٹس میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے پارٹی آئین 2022 کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے۔

شوکاز نوٹس پر مناسب جواب نہ دینے پر ’بلے‘ کا نشان واپس لیے جانے کے قانون سے آگاہ کیا گیا تھا۔

پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے اعترضات پر مؤقف اختیار کیا تھا کہ جون 2022 میں انٹرا پارٹی الیکشن پارٹی آئین 2019 کے مطابق کروا کر تفصیلات جمع کردی تھیں۔

پی ٹی آئی کی قیادت نے نیا پارٹی آئین ستمبر 2022 میں الیکشن کمیشن کو جمع کرایا تھا لیکن الیکشن کمیشن کے اعتراض کے بعد پارٹی کا نیا آئین واپس لے لیا تھا، الیکشن کمیشن میں پارٹی قیادت کی طرف سے بیان حلفی بھی جمع کرا دیا گیا تھا۔

جس کے بعد الیکشن کمیشن نے فیصلے میں پی ٹی آئی کو 20 روز میں انتخابات کرانے کا حکم دینے کے ساتھ 7 دنوں میں رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرانے کی ہدات کی تھی۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پارٹی اپنے مروجہ آئین 2019 کے مطابق 10 جون 2022 کو منعقدہ انٹرا پارٹی الیکشن مبینہ طور پر شفاف، منصفانہ اور منصفانہ کرانے میں ناکام رہی جو کہ انتہائی متنازع، قابل اعتراض ہے جسے ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا تھا۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں