گزشتہ روز پاکستان کے نامور صحافی وسیم بادامی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ سے عجیب و غریب ٹوئٹس سامنے آنے کے بعد یہ خبریں گردش کرنے لگیں گے ان کا اکاؤنٹ ہیک ہوگیا ہے۔

ایکس پر 50 لاکھ سے زائد فالوورز رکھنے والے وسیم بادامی کا اکاؤنٹ ہیک ہونے کی اطلاع سب سے پہلے نامور اینکر پرسن اور صحافی اقرار الحسن نے دی تھی۔

انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’وسیم بادامی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک کر لیا گیا ہے، لہٰذا جب تک اکاؤنٹ واپس حاصل نہیں کر لیا جاتا تب تک اُن کے اکاؤنٹ سے کی گئی تمام ٹوئٹس کو نظر انداز کیا جائے‘۔

اقرارالحسن کی ٹوئٹ کے جواب میں ہیکر نے وسیم بادامی کے اکاؤنٹ سے جواباً لکھا کہ ’کیا تمہارا بھی اکاؤنٹ ہیک کروں؟ آپ مالدیپ کا دورہ انجوائے کریں۔‘

ایلون مسک کی جانب سے ایکس خریدنے سے قبل اور بعد میں بھی کئی مشہور شخصیات کے ایکس یعنی ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک کیے جاچکے ہیں۔

ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر خریدنے کے بعد ستمبر 2022 کو اُس وقت کے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک کرلیا گیا تھا۔

ہیکر نے فواد چوہدری کے اکاؤنٹ کی تصویر تبدیل کرکے مولانا فضل الرحمٰن کی تصویر لگادی تھی اور ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کا انتقال ہوگیا ہے۔

قبل ازیں جون 2019 کو بھارتی اداکار امیتابھ بچن کے اکاؤنٹ کو بھی ہیک کرلیا گیا تھا، ہیکر نے ان کے اکاؤنٹ سے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی تصویر لگادی تھی۔

یہی نہیں بلکہ ستمبر 2020 میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی ہیک ہوگیا تھا، ہیکرز نے ان کے اکاؤنٹ سے ’چندے‘ کی اپیل کردی تھی۔

اس کے علاوہ قومی ٹیم کے باؤلنگ کوچ وقار یونس، بھارتی گلوکار عدنان سمیع کا بھی اکاؤنٹ ہیک ہوچکا ہے۔

صارفین اپنا ’ایکس‘ اکاؤنٹ محفوظ کیسے بنا سکتے ہیں؟

قبل ازیں مارچ 2023 میں ارب پتی بزنس مین ایلون مسک کی جانب سے اکتوبر 2022 میں ایکس خریدنے کے بعد 20 مارچ 2023 کو ایکس میں دو عنصری تصدیقی عمل (two factor authentication) فیچر مفت میں ختم کردیا گیا تھا، تاہم ٹوئٹر بلیو صارفین یعنی ماہانہ فیس ادا کرنے والے مذکورہ فیچر کو استعمال کر سکیں گے۔

لیکن اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بلیو ٹک صارفین بھی ہیکرز سے محفوظ نہیں ہیں۔

اس فیچر کے تحت صارفین جب بھی ٹوئٹر اکاؤنٹ سائن ان کرتے ہیں، تب انہیں اپنے موبائل پر ایک کوڈ موصول ہوتا ہے، جسے وہ لاگ ان کے وقت استعمال کرتے ہیں۔

مذکورہ طریقہ کار کے تحت ٹوئٹر اکاؤنٹس کو انتہائی محفوظ سمجھا جاتا تھا، کیوں کہ کوئی دوسرا فرد کسی کے بھی اکاؤنٹ تک تب تک رسائی نہیں کرپاتا تھا جب تک کہ اس کے پاس اُس کا موبائل نہ ہو۔

لیکن ٹو فیکٹر اتھینٹی کیشن کا فیچر ماہانہ فیس دینے والے صارفین کے لیے دستیاب ہے اور انہیں معمول کی طرح موبائل پر ایس ایم ایس کوڈ موصول ہوگا۔

اکاؤنٹ ہیک ہوجائے تو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کا ایکس اکاؤنٹ ہیک ہوجائے تو ٹوئٹر ہیلپ سینٹر سے مدد لے سکتے ہیں۔

ہیلپ سینٹر پر آپ کو کچھ سوالات کے جواب دینا ہوں گے جس میں آپ کو اپنا username لکھنا ہوگا، ای میل ایڈریس درج کرنا ہوگا (جو آپ نے اپنا اکاؤنٹ بناتے ہوئے درج کیا تھا)۔

اس کے علاوہ آخری بار کب آپ اپنے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کی تھی اس کی تاریخ درج کرنی ہوگی اور ایکس اکاؤنٹ بنانے کے لیے آپ نے تصدیق کا کون سا طریقہ استعمال کیا تھا۔

اس کے علاوہ دیگر سوال بھی پوچھے جاتے ہیں جن میں آپ کا کون سے ملک سے تعلق ہے، کیا آپ نے اپنے اکاؤنٹ کو اپنے فون نمبر یا ای میل ایڈریس تک رسائی دی تھی؟ اور کچھ تصاویر بھی اپلوڈ کی جاتی ہیں جس سے معلوم ہوسکے کہ آپ کا اکاؤنٹ ہیک ہوچکا ہے۔

ایکس پر اکاؤنٹ بناتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟

ایکس پر اکاؤنٹ بناتے وقت کچھ اہم باتیں ذہن میں رکھنا انتہائی ضروری ہیں کیونکہ اکاؤنٹ ہیک ہونے کا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے۔

اکاؤنٹ بناتے وقت جب پاسورڈ درج کریں تو یہ خیال رکھیں کہ جو پاسورڈ آپ ایکس کے لیے استعمال کر رہے ہیں وہ دیگر کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے لیے استعمال نہ کیا گیا ہو۔

ایکس اکاؤنٹ کے لیے مضبوط اور منفرد پاس ورڈ بنائیں، کم از کم 10 حروف کا پاس ورڈ بنائیں، جتنا زیادہ لمبا پاسورڈ ہوگا اتنا بہتر ہے، اس دوران بڑے اور چھوٹے انگریزی حروف کا استعمال کریں، درمیان میں نمبرز اور اسپیشل کریکٹرز کا بھی استعمال کریں۔

اپنے پاس ورڈ میں ذاتی معلومات استعمال نہ کریں جیسے فون نمبر، سالگرہ وغیرہ۔

اگر آپ بلیو ٹک صارف ہیں تو ٹو فیکٹر اتھینٹی کیشن کے فیچر کو استعمال کرنا مت بھولیں، یہ فیچر کس طرح استعمال ہوگا، اس کے لیے بھی کچھ ہدایات ہر عمل کرنا ہوگا۔

اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ٹو فیکٹر اتھینٹی کیشن فیچر نہ ہونے پر کیا کرنا چاہیے؟

مذکورہ فیچر سے محروم ہونے والے صارفین اب ٹوئٹر کی سیٹنگ میں جاکر روایتی طریقے سے اپنے اکاؤنٹ کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔

صارفین اپنے اکاؤنٹ کو محفوظ بنانے کے لیے اکاؤنٹ سیٹنگ میں جا کر پرائیویسی اور سیکیورٹی کے آپشن میں جاکر اکاؤنٹ کو محفوظ بنانے کے مختلف آپشن استعمال کر سکتے ہیں۔

مذکورہ سیٹنگ میں جاکر صارفین ’اتھینٹی کیشن ایپ‘ اور ’سیکیورٹی کیز‘ کے آپشن کو استعمال کر سکتے ہیں۔

’اتھینٹی کیشن ایپ‘ کا فیچر اس وقت ہی کام کرے گا جب کہ صارفین اپنے موبائل میں کوئی بھی اتھینٹی کیشن ایپ ڈاؤن لوڈ کریں گے اور اس کے ذریعے ٹوئٹر کو استعمال کریں گے۔

مذکورہ ’اتھینٹی کیشن ایپلی کیشنز‘ بالکل ایسے ہی کام کرتی ہیں جیسے ایپ لاک کی ایپلی کیشنز کام کرتی ہیں۔

اکاؤنٹ بنانے کے بعد ڈی ایم یا نامعلوم اکاؤنٹس سے بھیجے گئے مشکوک لنکس پر ہر گز کلک نہ کریں، یہ ہیکرز کی جانب سے لنک بھیجا جاتا ہے۔

لنک پر کلک کرنے سے آپ اپنے اکاؤنٹ تک رسائی کھو سکتے ہیں یا پھر آپ اپنے اکاؤنٹ سے لاگ ان تو ہوسکتے ہیں لیکن آپ کا اکاؤنٹ ہیکر بھی استعمال کرسکتا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں