حتمی حلقہ بندیوں کا اعلان، فروری میں انتخابات کے امکانات روشن

اپ ڈیٹ 01 دسمبر 2023
وفاقی دارالحکومت میں قومی اسمبلی کی تین جنرل نشستیں ہیں جن میں خواتین کے لیے کوئی مخصوص نشست نہیں ہے— فائل فوٹو: ڈان نیوز
وفاقی دارالحکومت میں قومی اسمبلی کی تین جنرل نشستیں ہیں جن میں خواتین کے لیے کوئی مخصوص نشست نہیں ہے— فائل فوٹو: ڈان نیوز

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کی حتمی حد بندیوں کی فہرست جاری کردی، جس سے فروری 2024 میں عام انتخابات کا امکان روشن ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ای سی پی کے نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اسمبلی کی کل جنرل نشستیں 266 ہیں، ان کے علاوہ 10 سیٹیں غیر مسلموں کے لیے جب کہ 60 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں، اس طرح ایوان کی مجموعی سیٹوں کی تعداد 336 بنتی ہے۔

قومی اسمبلی میں بلوچستان کی کل 20 نشستیں ہیں جن میں 16 جنرل اور چار خواتین کی مخصوص نشستیں شامل ہیں، خیبرپختونخوا میں 45 جنرل نشستیں اور خواتین کی 10 مخصوص نشستیں ہیں، سندھ میں قومی اسمبلی کی کل 75 نشستیں ہیں جن میں سے 61 جنرل اور 14 خواتین کے لیے مخصوص ہیں جب کہ سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب میں 141 جنرل نشستیں ہیں جن میں سے 32 خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔

وفاقی دارالحکومت میں قومی اسمبلی کی تین جنرل نشستیں ہیں جن میں خواتین کے لیے کوئی مخصوص نشست نہیں ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان قانون کی روح کے خلاف مختلف حلقوں کی آبادی میں بڑے فرق پر ابتدائی حد بندی کی فہرست کی اشاعت کے بعد تنقید کی زد میں آ گیا تھا لیکن اس نے اصرار کیا تھا کہ مساوات صرف ضلع کی حلقوں کی آبادی کے درمیان برقرار رکھی جانی چاہیے، صوبے کی سطح پر نہیں۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ صوبوں کے لیے مختص نشستوں اور ان کی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے کوٹہ پر کام کیا گیا جس کی بنیاد پر ہر ضلع کے لیے نشستیں مختص کی گئیں جس کے بعد اضلاع کی آبادی اور تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی حد بندی کی گئی۔

تاہم انتخابی ماہرین نے الیکشن کمیشن کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ حد بندی سے متعلق قانون بہت واضح ہے اور یہ ضلع کی نہیں بلکہ اسمبلی کے حلقوں کی آبادی کے بارے میں بات کرتا ہے، انہوں نے زور دے کر کہا کہ کوئی رولز کسی قانونی شق میں ترمیم یا اسے منسوخ نہیں کر سکتے۔

حلقہ بندیوں کے حوالے سے مجموعی طور پر ایک ہزار 327 اعتراضات سے متعلق درخواستیں دائر کی گئی تھیں جن میں سے اکثریت یعنی 675 پنجاب سے تھیں۔

صوبائی اسمبلیاں

صوبائی اسمبلیوں میں بلوچستان میں 51 جنرل نشستیں ہیں جن میں 11 خواتین اور تین غیر مسلموں کے لیے مخصوص ہیں، کل تعداد 65 ہے، خیبرپختونخوا میں 115 جنرل نشستیں ہیں، 26 خواتین اور چار نشستیں غیر مسلموں کے لیے مخصوص ہیں، کل نشستوں کی تعداد 145 ہے۔

سندھ اسمبلی 130 جنرل نشستوں پر مشتمل ہے جب کہ 29 نشستیں خواتین اور نو نشستیں غیر مسلموں کے لیے مخصوص ہیں، نشستوں کی کل تعداد 168 ہے۔ پنجاب میں 297 جنرل نشستیں ہیں، 66 خواتین اور آٹھ غیر مسلموں کے لیے مخصوص ہیں۔ صوبائی اسمبلی کی کل تعداد 371 ہے۔

اس طرح چاروں قانون سازوں کی مجموعی نشستوں کی کل تعداد 593 ہے، خواتین کے لیے 132 اور غیر مسلموں کے لیے 24 مخصوص نشستیں ہیں۔

نمایاں تبدیلیاں

حتمی نوٹیفکیشن کے تحت کراچی جنوبی کی قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد دو سے بڑھ کر تین ہوگئیں جب کہ سانگھڑ کی تین میں سے ایک نشست کم گئی ہے۔

اس کے علاوہ، ملیر، کراچی ایسٹ اور کراچی سینٹرل میں صوبائی اسمبلی کی ایک ایک نشست کا اضافہ ہوگیا، ملیر کی صوبائی اسمبلی کی نشستیں پانچ سے بڑھ کر 6 جبکہ کراچی ایسٹ اور کراچی سینٹرل کی نشستوں کی تعداد آٹھ سے بڑھ کر نو ہو گئی ہے۔

اسی طرح خیرپور، سانگھڑ اور ٹھٹھہ میں صوبائی اسمبلی کی ایک ایک سیٹ کم ہوگئی، خیرپور کی صوبائی اسمبلی کی نشستیں سات سے کم ہو کر چھ، سانگھڑ کی نشستیں چھ سے کم ہو کر پانچ اور ٹھٹھہ کی نشستیں تین سے کم ہو کر دو رہ گئیں۔

چھ قبائلی اضلاع کے اضافے سے خیبر پختونخوا کی قومی اسمبلی کی تعداد 39 سے بڑھ کر 45 ہوگئی، باجوڑ، مہمند، خیبر، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور کرم نے قومی اسمبلی کی نشستیں حاصل کی ہیں جب کہ ٹانک کی الگ نشست ڈیرہ اسماعیل خان میں ضم کردی گئی ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں