بھارت کی ممبئی ہائی کورٹ کی جانب سے پاکستانی اداکاروں کے بھارت میں کام کرنے پر پابندی ختم ہونے کے بعد بھارتی میڈیا میں افواہیں گردش کررہی ہیں کہ اداکارہ ماہرہ خان ملیالم فلم میں ڈیبیو دینے والی ہیں۔

بھارتی میڈیا نیوز 18 اور فری پریس جرنل کی رپورٹ کے مطابق بولی وڈ فلم ’رئیس‘ میں شاہ رخ خان کے ساتھ کام کرنے کے بعد پاکستان کی صف اول اداکارہ ماہرہ خان اب ملیالم فلم میں اپنا ڈیبیو دینے والی ہیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ماہرہ خان بھارت کے معروف اداکار و ہدایت کار پرتھوی راج سوکمارن کی سُپر ہٹ فلم ’لوسیفر‘ کے سیکوئل ’L2: Empuraan‘ میں ملیالم سُپر اسٹار موہن لال کے ساتھ اہم کردار میں نظر آئیں گی۔

ڈائریکٹر پرتھوی راج نے اس پروجیکٹ میں ماہرہ خان کو کاسٹ کرنے سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کا باضابطہ طور پر کوئی جواب نہیں دیا، یہی نہیں بلکہ ماہرہ خان نے بھی ایسی خبروں پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

تاہم پرتھوی راج، ان کی اہلیہ سپریا مینن کی ماہرہ خان اور ان کے شوہر سلیم کریم کے ساتھ گہری دوستی ہے اور حال ہی میں ان کے مالدیپ کے دورے کی ایک تصویر بھی وائرل ہوئی تھی جس کے بعد افواہوں نے زور پکڑنا شروع کردیا تھا۔

سوشل میڈیا پر اداکارہ ماہرہ خان کا ایک پرانا انٹرویو بھی وائرل ہورہا ہے جہاں وہ ملیالم فلموں کی تعریف کررہی ہیں اور اپنے مداحوں کو ایسی فلمیں دیکھنے کا مشورہ بھی دے رہی ہیں۔

انہوں نے انٹرویو کے دوران اداکارہ نے کہا کہ وہ تیمل یا تیلگو فلموں کی نہیں بلکہ ملیالم فلموں کی بات کررہی ہیں، ان کی فلموں کے آئیڈیاز، پروڈکشن، اداکاری بہترین ہے۔

اداکارہ ماہرہ خان سے متعلق ملیالم فلموں میں ڈیبیو دینے کی خبریں اگر درست ثابت ہوئیں تو یہ ان کی دوسری بین الاقوامی فلم ہوگی، اس سے قبل وہ بولی وڈ فلم رئیس میں شاہ رخ خان کے ساتھ کام کرچکی ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایل ٹو-ایمپوران کی کاسٹ میں ممکنہ طور پر موہن لال کے علاوہ منجو واریر، اندراجیت سوکمارن، ٹوینو تھامس، سائی کمار، بیجو سنتوش، اور شیواجی گرووائیور شامل ہوں گے۔

خیال رہے کہ 2019 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی تعلقات خراب ہونے کے باعث پاکستانی فنکاروں کے بھارت میں کام کرنے پر پابندی لگائی تھی، جس کے نتیجے میں ماہرہ خان، فواد خان، عاطف اسلم ، راحت فتح علی خان سمیت دیگر فنکار نے بھارت میں کام کرنا چھوڑدیا تھا۔

تاہم دونوں ممالک کے فنکار اب بھی ایک ساتھ کام کرتے ہیں لیکن ان کے پروجیکٹس کی شوٹنگ کسی دوسرے ملک میں ہوتی ہے۔

بعدازاں رواں سال اکتوبر 2023 کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ بھارت کی ممبئی ہائی کورٹ میں بھارتی فنکار فیض انور قریشی نے درخواست دائر کی جس میں انہوں نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی فنکاروں بشمول اداکاروں، گلوکاروں اور تکنیکی ماہرین کو بھارت میں کام نہ کرنے دیا جائے۔

بعدازاں عدالت نے امن اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بھارتی شہری کی درخواست مسترد کردی۔

ممبئی ہائی کورٹ کے ججز نے زور دیتےہوئے کہا تھا کہ محب وطن ہونے کے ناطے بیرون ملک، یہاں تک کہ پڑوسی ممالک کے لوگوں سے بھی دشمنی کی ضرورت نہیں ہے، ایک سچا محب وطن وہ ہے جو اپنے ملک سے بے لوث محبت اور خیرخواہ ہو۔ ’

عدالت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پاکستانی فنکاروں پر پابندی کی درخواست ثقافتی ہم آہنگی اور امن کو فروغ دینے سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کے برابر ہے جس کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں