انسانی حقوق سے لے کر یوکرین معاملات تک بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ریکارڈ نے واشنگٹن میں خطرے کی گھنٹی بجائی، لیکن ہر بار امریکی حکام نے فیصلہ کیا کہ خدشات کی وجہ سے بھارت کے ساتھ تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکی پراسیکیوٹرز کی جانب سے بھارتی حکومت کے ایک اہلکار پر امریکی سرزمین پر قاتلانہ حملے کی ہدایت دینے کے الزام کے بعد نریندر مودی کو اب تک کے سب سے بڑے خطرے کا سامنا ہے لیکن جو بائیڈن انتظامیہ کو تناؤ دوبارہ خفیہ رکھنے کی امید ہے۔

کینیڈا کی جانب سے وینکوور کے قریب اپنے ایک شہری کے قتل میں نئی دہلی کے ملوث ہونے کے الزام کے دو ماہ بعد امریکی محکمہ انصاف نے ایک بھارتی شخص پر الزامات لگائے، جسے امریکی حوالگی کی درخواست پر جمہوریہ چیک میں گرفتار کیا گیا، اور الزام عائد کیا کہ ایک بھارتی اہلکار نے اس ناکام کوشش کا منصوبہ بنایا تھا ۔

1990کی دہائی سے امریکی صدور نے یہ کہتے ہوئے بھارت کے ساتھ گہری شراکت داری کی کوشش کی ہے کہ دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوریتیں مشترکہ اقدار رکھتی ہیں۔

لیکن نئے الزامات نے بھارت کو روس، ایران اور سعودی عرب جیسے ممالک میں شامل کر دیا ہے، جنہیں مبینہ طور پر بین الاقوامی حملوں کی وجہ سے امریکا کی مخالفت کا سامنا ہے۔

امریکا اور بھارت کے قریبی تعلقات کی حامی اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں وائٹ ہاؤس میں جنوبی ایشیا کی پالیسی کو مربوط کرنے والی لیزا کرٹس نے کہا کہ میرے خیال میں ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ مودی حکومت کافی حوصلہ مند ہو گئی ہے، یہ ایک ایسی سازش تھی۔

سینٹر فار نیو امریکن سیکیورٹی کی سینئر فیلو لیزا کر ٹس کا کہنا تھا کہ یہ دوسری چیزوں سے مطابقت رکھتا ہے جو ہم نے مودی حکومت کے انسانی حقوق، میڈیا کی آزادی اور یہاں تک کہ روس کے بارے میں اس کے مؤقف کے حوالے سے دیکھا ہے۔

صحافیوں، کارکنوں اور مذہبی اقلیتوں نے 2014 میں ہندو قوم پرست مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہراساں کیے جانے کی شکایت کی اور بھارت نے یوکرین پر حملے کے بعد روس کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کو ختم کرنے کے امریکی مطالبات کو بھی مسترد کر دیا تھا۔

ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کی اپرنا پانڈے نے کہا کہ نریندر مودی کے دورے کی شاندار تیاریاں اور ستمبر میں بھارت کے جی 20 سربراہی اجلاس کے لیے امریکا کے جوش و خروش نےان کی ترجیحات کو ظاہر کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت خاص طور پر جو بائیڈن انتظامیہ کے لیے بھارت کے ساتھ قریبی شراکت داری اس کی عظیم حکمت عملی اور قومی سلامتی کے اہداف کے لیے اہم ہے۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے الزامات منظر عام پر آنے کے بعد بھارت نے غصے سے جواب دیا ، انہوں نے کینیڈا کے شہریوں کے ویزوں پر مختصر پابندی لگا دی تھی اور اوٹاوا کو مجبور کیا وہ سفارت کاروں کو واپس بلائیں۔

کینیڈا کے برعکس جہاں سکھ کارکن ایک اہم سیاسی حلقہ بناتے ہیں، امریکا نے خاموش رویہ اختیار کیا جس کا اب تک اسی طرح جواب دیا جارہا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے کہا کہ امریکی الزامات تشویش کی بات ہیں اور حکومتی پالیسی کے خلاف ہیں۔

انٹونی بلنکن نے تل ابیب میں جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بھارت کے تحقیقات کے وعدے کو اچھا اور مناسب قرار دیا تھا۔

امریکی حکام نے کہا کہ جو بائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے نئی دہلی کو ایک نئے واقعے کے خلاف خبردار کیا اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر بل برنز نے براہ راست امریکی خدشات کو اٹھانے کے لیے بھارت کا دورہ کیا۔

تبصرے (0) بند ہیں