لاہور: گرلز کالج کی بس پر فائرنگ کرنے والے چھ ملزمان گرفتار

01 دسمبر 2023
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور عمران کشور لاہور میں پریس کانفرنس کررہے تھے— فوٹو: ڈان نیوز
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور عمران کشور لاہور میں پریس کانفرنس کررہے تھے— فوٹو: ڈان نیوز

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور عمران کشور نے کہا ہے کہ لاہور میں نجی کالج کی بس پر فائرنگ کرنے والے چھ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور ملزمان کے خلاف مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ شامل کی گئی ہے۔

لاہور میں ایس ایس پی انوش مسعود کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ 28 نومبر کو کالج کی طالبات کے ٹرپ پر فائرنگ کی گئی جس میں دو طالبات نمرہ اور عائشہ گولی لگنے سے زخمی ہوئیں اور ان میں سے ایک بچی عائشہ اب بھی وینٹی لیٹر پر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ جی ٹی روڈ پر پیش آیا اور بہت چیلنجنگ واقعہ تھا لیکن ڈی ایس پی نعمان کی زیر سربراہی ان کی ٹیم نے دن رات تحقیقات کیں اور مختلف طریقے سے تحقیقات کر کے واقعے میں ملوث چھ ملزمان کو گرفتار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سجاول، ابرار، عبداللہ، احتشام، محبوب اور ایان شامل ہیں جبکہ ساتواں ملزم عمر گرفتار ہونا باقی ہے، ہم نے انسانی قابلیت اور تکنیکی معلومات کی مدد سے اس معاملے کو حل کیا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ رات ڈیڑھ بجے پیش آیا تھا اور ملزمان سفید رنگ ویگن آر میں سوار تھے، بچوں کا ٹرپ آگے جا چکا تھا تو ہم نے ان کو واپس بلایا اور بیانات ریکارڈ کیے اور دیگر تکنیکی شواہد پر کام کیا۔

ڈی آئی جی نے بتایا کہ ہمیں پتا چلا یہی گاڑی پتوکی میں ایک مہندی کے فنکشن میں دیکھی گئی تھی جس میں شراب کے نشے میں دھت چھ سات نوجوان لڑکے سوار تھے اور یہ تقریب میں شرکت کے بعد پتوکی سے لاہور واپس آ رہے تھے، اس کڑی پر ہم نے کام کیا تو ہمیں ٹول پلازہ سے ویگن آر کی دن کی فوٹیج ملی جس سے ہم اس کا نمبر پڑھ سکے۔

انہوں نے کہا کہ گاڑی کی رجسٹریشن نمبر سے گاڑی کی ملکیت دیکھی، یہ رینٹ اے کار کی گاڑی تھی اور رینٹ اے کار سے ہم نے ان لوگوں کی معلومات حاصل کیں جو اس رات گاڑی لے کر گئے تھے، پھر ہم نے ملزمان کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے اور تمام چھ ملزمان کو گرفتار کیا، ایک ملزم عمر کو بھی ہم جلد گرفتار کر لیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ملزمان کا سابقہ ریکارڈ بھی دیکھا اور میں سے عمر پر اس سے پہلے بھی دو ایف آئی آر ہیں جو منشیات فروشی کے مقدمے کی ہیں۔

واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے عمران کشور نے کہا کہ بس کے ساتھ ان کی سڑک پر کچھ جھڑپ ہوئی تھی اور دونوں میں سڑک پر تناؤ چلتا رہا جس میں سخت لفظوں کا بھی تبادلہ ہوا جس پر ان کو غصہ چڑھا، انہوں نے پستول سے تین فائر کیے جس میں ایک فائر بس کے بمپر کو لگا جبکہ دو فائر گاڑی کے اندر لگے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے ایک فائر نمرہ کو لگا جس کی حالت اب خطرے سے باہر ہے اور دوسرا فائر عائشہ کو لگا اور وہ ابھی بھی جنرل ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 شامل کر چکے ہیں کیونکہ یہ واقعہ ایک ہائی وے پر پیش آیا اور انہوں نے کسی کی پرواہ کیے بغیر بلااشتعال فائر کیے، ملزمان کو شناخت پریڈ کے لیے بھجوائیں گے اور بچیوں کے ساتھ ساتھ ڈرائیور سے بھی شناخت کروائیں گے۔

ڈی آئی جی لاہور نے کہا کہ ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ کس نے فائر کیا، ملزمان ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں لیکن جب ہم ہتھیار برآمد کر لیں گے تو اس کی ملکیت دیکھیں گے اور پھر دیکھیں گے کس نے فائر کیا۔

انہوں نے کہا کہ کالج انتظامیہ کی ذمے داری بنتی تھی کہ وہ دورہ منسوخ کر کے بس کو واپس بلاتے اور ہم نے بعد میں ان کو کال کر کے اگلے دن واپس بلا لیا، ان کے بیان اور ثبوت بھی شامل کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ٹھوکر کے ناکے سے پہلے ہی یوٹرن لیا اور چونکہ یہ حجروال کے رہائشی ہیں تو واپس اس کی طرف گئے، وہاں وہ گلیوں سے ہوتے ہوئے گھر گئے ہیں اور کسی بھی کیمرے نے صحیح سے قید نہیں کیا۔

عمران کشور نے کہا کہ ہم شناخت پریڈ کے بعد ملزمان کا ریمانڈ لیں گے اور اس کے بعد ہم پستول سمیت حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیار کو برآمد کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بس واقعی کیس پراپرٹی تھی اور اسے فوری طور پر قبضے میں لینا چاہیے تھا، اس پر ایس پی صدر ہمیں خود انکوائری کر کے رپورٹ دیں گی کہ ایسا کیوں ہوا کہ بس کو جانے دیا گیا، ہم نے بس واپس بلا کر ثبوتوں کو فارنزک کے لیے محفوظ کر لیا ہے۔

پولیس افسر نے کہا کہ ہمیں چار مختلف لیڈز ملی ہوئی ہیں اور اس پر ہم کام کررہے ہیں، جلد ہی ہم اس پر بھی آپ کو اچھی خبر دینے والے ہیں، ہمیں امید ہے کہ اس میں پراسکیوشن کا اچھا کیس بنے گا اور ہم انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات لاگو کریں گے۔

واقعہ کب اور کیسے پیش آیا؟

لاہور میں موہلنوال کے روہی نالہ کے مقام پر نامعلوم کار سواروں نے نجی کالج کی طالبات کو لے جانے والی بس پر فائرنگ کر کے دو کو زخمی کر دیا تھا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق پتوکی (قصور) میں واقع پنجاب کالج کی 8 بسیں طالبات کو ٹرپ پر لے جارہی تھیں کہ مسلح افراد نے ان میں سے ایک پر فائرنگ کردی۔

بس جیسے ہی ضلع قصور کی حد عبور کر کے لاہور میں داخل ہوئی تو ملزمان نے بسوں کا تعاقب شروع کیا تھا۔

ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ جیسے ہی بسیں موہلنوال میں روہی نالہ کے قریب پہنچی تو ایک بس کے ڈرائیور نے گاڑی کی رفتار اس وقت تیز کر دی جب مشتبہ کار سوار نے ڈرائیور کو خوفزدہ یا خبردار کرنے کے لیے گاڑی کو بس کے سامنے لے آئے تھے۔

اس موقع پر بس ڈرائیور اور کار سواروں میں کچھ سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا اور کار میں سوار افراد نے بس ڈرائیور کو گاڑی روکنے کا اشارہ کیا تھا لیکن ڈرائیور نے کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے بس نہ روکی۔

اس موقع پر گاڑی میں سوار ایک شخص نے چلتی کار سے بس پر فائرنگ کی اور گولیاں بس کے پچھلے حصے میں لگیں۔

گولیوں میں سے ایک نے بس کا پچھلا شیشہ توڑ دیا اور دو طالباتعلم زخمی ہو گئیں۔

دونوں لڑکیوں میں سے عائشہ کو سر میں اور نمرہ کو پیٹ میں گولی لگی اور دونوں کو مقامی ہسپتال لے جایا گیا تھا، ہسپتال میں ڈاکٹروں نے دونوں طالبات کو وینٹی لیٹر پر ڈال دیا تھا اور ان کی حالت کو تشویشناک قرار دیا تھا۔

فائرنگ کے محرکات کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آئی تھیں جہاں ایک جانب سے ٹارگیٹڈ حملہ قرار دیا گیا تھا تو دوسری جانب ڈی آئی جی عمران سے اسے سڑک پر گرما گرمی کے دوران پیش آنے والا واقعہ قرار دیا تھا۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں