غزہ میں تشدد کا سلسلہ نہ رکا تو یہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے، وزیر اعظم

اپ ڈیٹ 03 دسمبر 2023
نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ اقوام متحدہ کی 28ویں کانفرنس آف پارٹی (کوپ) کے پاکستان پویلین میں منعقدہ ’لیونگ انڈس انیشی ایٹو‘ کے موضوع پر تقریب سے خطاب کر رہے تھے — فوٹو: اے پی پی
نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ اقوام متحدہ کی 28ویں کانفرنس آف پارٹی (کوپ) کے پاکستان پویلین میں منعقدہ ’لیونگ انڈس انیشی ایٹو‘ کے موضوع پر تقریب سے خطاب کر رہے تھے — فوٹو: اے پی پی

نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ اس اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی اور ملحقہ علاقوں کے بچوں، خواتین اور بزرگوں پر جاری تشدد فوری رکنا چاہیے اور اگر یہ سلسلہ نہیں رکتا تو یہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے جس کی پھر کوئی حد نہیں ہو گی۔

کوپ28 کے موقع پر اسکائی نیوز عربیہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ لاس اور ڈیمیج فنڈ کی آپریشنلائزیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ ترقی یافتہ ممالک نے اخلاقی طور پر اس دلیل کو قبول کیا ہے کہ دنیا کو ان ممالک کی حمایت کرنی چاہیے جو موسمیاتی نقصان کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ اس بات کی وکالت کرتا رہا ہے کہ جن ممالک نے کاربن کے اخراج میں حصہ نہیں ڈالا لیکن وہ موسمیاتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور ان کو ان تمام چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تخفیف، موسمیاتی موافقت اور کلائمیٹ فنانس حاصل کرنے کی صورت میں معاوضہ دیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کی طرف سے 30 ارب امریکی ڈالر کے اعلان کے ذریعے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فعال کرنا درست سمت میں ایک اچھا آغاز ہے، ابتدائی طور پر فنڈنگ ​​کو عالمی بینک جیسی کثیر الجہتی تنظیم کے ذریعے استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ عملدرآمد کے عمل کا تیزی سے آغازکیا جا سکے۔

اسرائیلی مظالم کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر پیش پیش رہا ہے اور فلسطینیوں کے خلاف بے پناہ تشدد اور جارحیت کو فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہناتھا کہ اس اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی اور ملحقہ علاقوں کے بچوں، خواتین اور بزرگوں پر انتہائی بے رحمانہ انداز میں بے معنی تشدد کیا جا رہا ہے جسے فوری رکنا چاہیے اور اگر یہ سلسلہ نہیں رکتا تو یہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ تشدد نے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو پھر مصر، شام، اردن اور شاید پر اس کی کوئی حد نہیں ہو گی۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ اس سلسلے میں انسانی ہمدردی کی راہداری کی تشکیل دوسری سب سے اہم چیز ہے اور اس حوالے سے پاکستان خطے میں فریقین کے مختلف تکتہ نظر کو سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پائیدار امن 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے ذریعے ہی ممکن ہے، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔

نگران وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ان پناہ گزینوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی واقف ہے جن کی ملک نے گزشتہ 50 سالوں سے میزبانی کی ہے تاہم یہ ہمارا قومی فرض ہے کہ 10 لاکھ سے زائد غیر دستاویزی اور غیر قانونی غیر ملکیوں کی نقل و حرکت کو منطقی بنائیں اور منظم کریں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ گزشتہ 7 دہائیوں سے حل طلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کےمطابق ڈھالنا اشد ضروری ہے، وزیر اعظم

نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ سندھ طاس کو ماحولیاتی اثرات اور آب وہوا سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق ڈھالنا اشد ضروری ہے کیونکہ آبادی کی اکثریت دریا سے منسلک ہے اور پاکستان کی مستقبل کی ضروریات کے لیے پانی کی دستیابی ایک بڑا چیلنج ہے۔

اتوار کو دبئی میں اقوام متحدہ کی 28ویں کانفرنس آف پارٹی (کوپ) کے پاکستان پویلین میں منعقدہ ’لیونگ انڈس انیشی ایٹو‘ کے موضوع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا دنیا کا آٹھواں ملک ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیونگ انڈس ایک وسیع اقدام ہے جس کا مقصد پاکستان کی حدود میں سندھ کی ماحولیات کو بحال کرنا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی دریائے سندھ کے حوالے سے ترجیحات واضح ہیں، یہ اقدام شراکت داروں کے ساتھ وسیع مشاورت سے مرتب کیا گیا ہے، جو 25 مختلف حکمت عملیوں کا ایک مجموعہ ہے جس میں فطرت پر مبنی حل اور ماحولیاتی نظام سے موافقت کے طریقوں پر زور دیا گیا ہے۔

نگران وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ لیونگ انڈس ایک ایسے اقدام کو متحرک کرنے کی کوشش ہے جو حال اور مستقبل کے لیے ایک صحت مند دریائے سندھ کو تیار اور بحال کرے گا اور ہم یہاں تعاون کے ساتھ ساتھ اپنے دریاؤں کے لیے آواز بلند کرنے کے لیے موجود ہیں۔

انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ صنعت ہمیں پالتی ہے اور اگر ہم اس کا خیال نہیں رکھیں گے تو یہ ہمارا خیال نہیں رکھے گی، اس وجہ سے تجویز کیا گیا ہے کہ ہمیں آئندہ 15 سالوں میں 11 سے 17 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ پبلک سیکٹر، پرائیویٹ سیکٹر، شہریوں اور کمیونٹیز کو متحرک کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ’ریچارج پاکستان‘ کا آغاز کیا، جو لیونگ انڈس کی جانب پہلا ٹھوس قدم ہے۔

نگراں وزیر اعظم نے مزید کہا کہ تقریباً 7 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی بین الاقوامی موسمیاتی فنانسنگ کے ساتھ یہ فلیگ شپ پروجیکٹ مستقبل میں سیلاب اور خشک سالی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ہماری کوششوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لیونگ انڈس فریم ورک کے تحت ریچارج پاکستان پروجیکٹ نہ صرف ہمارے لاکھوں شہریوں کو فائدہ پہنچائے گا بلکہ عالمی سطح پر موسمیاتی اختراع کے لیے ایک ماڈل کے طور پر بھی کام کرے گا۔

انہوں نے اس موقع پر مختلف اسٹیک ہولڈرز بشمول اسکالرز، آرکیٹیکٹس، شاعروں اور ادبی لوگوں پر زور دیا کہ وہ اپنے مضامین، خطابات اور شاعری میں اپنی آواز بلند کرکے موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کی عالمی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالیں۔

بعد ازاں کوپ28 میں باوقار زید سسٹین ایبلٹی انعام جیتنے والے پاکستان آرفن اسکول (کورٹ) ایجوکیشن کے طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ طلبہ نے اپنے ساتھ ساتھ پاکستان کا نام قابل فخر بنا دیا کیونکہ انہوں نے ایک زبردست کام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی نسل بہت باصلاحیت ہے اور ملک کا مستقبل بنائے گی لہٰذا ان پر مناسب توجہ کی ضرورت ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں