پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات کے نتائج الیکشن کمیشن میں جمع کرادیے

05 دسمبر 2023
پی ٹی آئی نے جلد از جلد اس حوالے سے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی استدعا کی ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
پی ٹی آئی نے جلد از جلد اس حوالے سے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی استدعا کی ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے حال ہی میں ہونے والے ’متنازع‘ انٹرا پارٹی انتخابات کے نتائج اور دیگر مطلوبہ دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع کرادی ہیں اور جلد از جلد اس حوالے سے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نو منتخب پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنے آفیشل ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر لکھا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کی تمام مطلوبہ دستاویزات الیکشن کمیشن کے سامنے جمع کرادی گئیں، عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان عنقریب ہونا ہے، اس لیے الیکشن کمیشن کو جلد از جلد ہمارا سرٹیفکیٹ جاری کرنا چاہیے۔

دریں اثنا ترجمان پی ٹی آئی نے ایک بیان میں نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کو پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کے بارے میں ریمارکس پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے بیان نے ان کے متعصبانہ کردار پر مہر ثبت کردی ہے۔

الیکشن کمیشن کی ہدایت پر ہفتہ (2 دسمبر) کو ہونے والے انٹرا پارٹی انتخابات میں بیرسٹر گوہر اور پی ٹی آئی کے دیگر تمام عہدیدار بلا مقابلہ منتخب ہوگئے تھے۔

پی ٹی آئی کے مخالفین انٹرا پارٹی انتخابات پر پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور اسے ’الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن‘ قرار دے رہے ہیں، مرکزی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن ’ناقص اور دھاندلی زدہ‘ انٹرا پارٹی انتخابات کا نوٹس لے۔

پی ٹی آئی کے بانی ارکان میں سے ایک اکبر ایس بابر پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کے خلاف الیکشن کمیشن سے رجوع کریں گے۔

انتخابی مہم

دریں اثنا گزشتہ روز پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے ارکان نے انتخابی مہم تیز کرنے کا فیصلہ کیا اور اعلان کیا کہ پارٹی جلد ہی خیبر پختونخوا میں ورکرز کنونشن منعقد کرے گی۔

کمیٹی نے عدلیہ کے بجائے انتظامیہ سے ریٹرننگ افسران لینے کے فیصلے پر بھی تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

گزشتہ روز ترجمان پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات کے بارے میں مرتضیٰ سولنگی کے تبصرے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

اتوار کو اے ’آر وائی نیوز‘ پر ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے نگران وزیر اطلاعات نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ پی ٹی آئی نگران حکومت پر تنقید کر رہی ہے جبکہ اس نے خود پارٹی کا نگران چیئرمین (بیرسٹر گوہر) مقرر کرلیا ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف اپنے انٹرا پارٹی انتخابات پر نظر ڈالے بغیر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے۔

پارٹی ترجمان نے کہا کہ پی ٹی آئی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے ملک کے سیاسی منظر نامے میں نئے اور اہل لوگوں کو متعارف کروایا اور روایتی موروثی اور خاندانی سیاست کو دفن کیا۔

انہوں نے کہا کہ مرتضیٰ سولنگی کے پاس کسی سیاسی جماعت کے اندرونی معاملات کے خلاف بیان دینے کا کوئی آئینی اور اخلاقی جواز نہیں ہے، پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن پر تنقید اُن کی جانبداری کو ظاہر کرتا ہے۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں