’ہمسایہ ملک کے شہریوں نے سکھ جوڑے کو لوٹا‘

06 دسمبر 2023
آفتاب پھلروان کا کہنا تھا کہ یہ ان ملزمان کا انفرادی عمل ہے اور اس عمل سے ان کے ملک یا انتطامیہ کا کوئی تعلق نہیں — فائل فوٹو: ٹوئٹر
آفتاب پھلروان کا کہنا تھا کہ یہ ان ملزمان کا انفرادی عمل ہے اور اس عمل سے ان کے ملک یا انتطامیہ کا کوئی تعلق نہیں — فائل فوٹو: ٹوئٹر

لاہور کے آرگنائزڈ کرائم یونٹ (او سی یو) نے کہا ہے کہ ایک ہفتے قبل گلبرگ میں سکھ برادری کے افراد کو مبینہ طور پر لوٹنے والے ڈاکو پڑوسی ملک کے شہری ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق آرگنائزڈ کرائم یونٹ کے ایس پی آفتاب پھلروان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ملزموں کی شناخت کے لیے ایک ہزار سے زائد نجی کیمروں کی جانچ کی، جو رائیونڈ کےقریب ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں کرائے پر رہ رہے تھے اور مالک مکان نے اپنے کرائے داروں کی رجسٹریشن مقامی پولیس تھانے میں نہیں کروائی تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آرگنائزڈ کرائم یونٹ نے ڈاکوؤں کے گروہ کے سرغنہ، اس کی بیوی اور ایک کزن کو حراست میں لے لیا، جو پڑوسی ملک کے شہری ہیں۔

ملزمان کا تعلق بھارت سے ہونے کے سوال پر ایس پی نے جواب دیا کہ بالکل بھی نہیں اور مزید کہا کہ کسی ملک کا نام لینا دانشمندی نہیں ہوگی۔

آفتاب پھلروان کا کہنا تھا کہ یہ ان ملزمان کا انفرادی عمل ہے اور اس عمل سے ان کے ملک یا انتطامیہ کا کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ملزمان غیر ملکی شہریوں کو ہدف بناتے تھے اور وہ لاہور میں متعدد بار اسٹریٹ کرائم کر چکے ہیں۔

آفتاب پھلروان نے کہا کہ ان ملزمان نے ایک ہفتے پہلے کنول جیت سنگھ اور ان کی اہلیہ کو لبرٹی مارکیٹ میں خریداری کرتے ہوئے لوٹا۔

ایس پی کا کہنا تھا کہ کنول جیت سنگھ ایک سینئر سیاستدان ہیں اور ان کی اہلیہ بھارت میں پنجاب اسمبلی کی سابق رکن رہ چکی ہیں، انہوں نے بتایا کہ ڈاکوؤں نے ان سے بندوق کےزور پر رقم اور جیولری چھینی۔

انہوں نے کہا کہ لاہور کے سی سی پی او نے ہائی پروفائل ڈکیتی کا سراغ لگانے کے لیے آرگنائزڈ کرائم یونٹ کو کام سونپا۔

آفتاب پھلروان نے بتایا کہ آرگنائزڈ کرائم یونٹ نے ملزمان کے پاس سے وائرلیس سیٹ، 9 ایم ایم پستول اور سکھ خاندان کے خلاف جرم میں استعمال ہونے والی گاڑی بر آمد کرلی، نام نہ ظاہر کرنے کی درخواست پر ایک پولیس افسر نے ڈان کو بتایا کہ گرفتار ملزمان فارسی بول رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں ان کے جرم کی طرف پاکستانی حکام کی توجہ مبذول ہونے کے بعد ملزمان نے کراچی کا سفر کیا اور بالآخر وہ اپنے آبائی ملک فرار ہونے کے لیے تقریباً وہاں پہنچ گئے تھے، لیکن او سی یو پولیس نے ان کے موبائل فون کال ریکارڈز کے ذریعے ملزمان کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کر لیا۔

پولیس افسر نے افسوس کا اظہار کیا کہ ڈاکوؤں کی جانب سے استعمال کیے جانے والی سڑکوں پر نصب تمام سیف سٹی کیمرے کام نہیں کر رہے تھے۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں