بولی وڈ کے معروف فلم ساز کرن جوہر نے پہلی بار بتایا ہے کہ وہ ہولی وڈ فلمیں کیوں نہیں بناتے؟

انہوں نے حال ہی میں عالمی ایوارڈ وصول کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ماضی میں انہوں نے ہولی وڈ فلم بنانے کے لیے امریکا کے متعدد دورے کیے لیکن ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، کیوں کہ وہ اپنی مادری زبان کے علاوہ دوسری زبان میں فلم نہیں بنانا چاہتے تھے۔

کرن جوہر نے حال ہی میں شوبز میگزین ’ورائٹی‘ کا ایوارڈ حاصل کیا، وہ میگزین کا ایوارڈ وصول کرنے والی بولی وڈ کی پہلی شخصیت بھی بنے۔

ایوارڈ وصول کرتے ہوئے کرن جوہر نے ورائٹی میگزین سے بات بھی کی اور بتایا کہ وہ کیوں ہولی وڈ فلمیں نہیں بناتے؟

کرن جوہر نے بتایا کہ حیران کن طور پر جب 2012 میں انہوں نے عالیہ بھٹ کو ’اسٹوڈنٹ آف دی ایئر‘ میں کاسٹ کیا تھا تب ان پر اقربا پروری کا الزام نہیں لگا لیکن فلم کی ریلیز کے کئی سال بعد اب ان پر اقربا پروری کے الزام لگائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے عالیہ بھٹ کو کاسٹ کرتے وقت یہ نہیں سوچا تھا کہ ان کے والد کون ہیں اور والدہ کیا کرتی ہیں؟

کرن جوہر نے انٹرویو کے دوران یہ بھی بتایا کہ پوری دنیا میں بولی وڈ فلموں سے متعلق غلط تصور پایا جاتا ہے۔

ان کے مطابق ہولی وڈ والے سوچتے ہیں کہ بولی وڈ فلمیں صرف ناچ اور گانے پر مبنی ہوتی ہیں لیکن ایسا نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ بالکل حقیقت ہے کہ بھارت میں گانوں اور ڈانس فلموں کو پسند کیا جاتا ہے لیکن ایسا بلکل نہیں کہ بولی وڈ میں کہانیوں اور موضوعات پر فلمیں نہیں بنتیں۔

ہولی وڈ فلمیں کیوں نہیں بناتے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب ان کی فلم ’مائی نیم از خان‘ بے حد مقبول ہوئی تو انہیں ہولی وڈ کے منصوبوں کے لیے امریکا کے متعدد دورے کرنے پڑے لیکن ان دوروں کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔

انہوں نے بتایا کہ دراصل وہ اپنی مادری زبان کے علاوہ دوسری زبان میں فلمیں بنانا نہیں چاہتے، ان کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ جس زبان کو بولتے ہوئے وہ بڑے ہوئے، اسے بھلا کر دوسری زبان میں فلمیں بنائیں۔

کرن جوہر کا کہنا تھا کہ انہیں عالمی شہرت حاصل کرنے یا ایوارڈ حاصل کرنے کے لیے انگریزی زبان میں فلم بنانے کی ضرورت نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں آج جو عالمی ایوارڈ دیا گیا ہے وہ ان کی اپنی مادری زبان میں بنائی گئی فلموں پر دیا گیا ہے، اس لیے انہیں دوسری زبان میں فلمیں بنانے کی ضرورت ہی نہیں۔

فلم ساز کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ انہیں آسکر ملے اور وہ آسکر کے ریڈ کارپٹ پر بھی گھومیں لیکن وہ ایوارڈ انہیں انگریزی نہیں بلکہ اپنی مادری زبان کی فلم پر ملے۔

تبصرے (0) بند ہیں