کرن جوہر نے پارٹی میں منشیات کے استعمال کے الزامات کو مسترد کردیا

اپ ڈیٹ 01 اکتوبر 2020

ای میل

این سی بی کی جانب سے کرن جوہر کی دھرما پرڈوکشن کے 2 ملازمین سے بھی پوچھ گچھ کی گئی تھی— فوٹو: ڈی این اے انڈیا
این سی بی کی جانب سے کرن جوہر کی دھرما پرڈوکشن کے 2 ملازمین سے بھی پوچھ گچھ کی گئی تھی— فوٹو: ڈی این اے انڈیا

بولی وڈ کی صف اول کی اداکاراؤں کو منشیات کیس میں طلب کرنے کے بعد بھارت کے نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کی جانب سے کرن جوہر کو 2019 میں منعقد کی گئی ایک پارٹی کی وائرل ویڈیو پر طلب کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا۔

کرن جوہر کی پارٹی ویڈیو اس وقت دوبارہ توجہ کا مرکز بنی تھی جب شرومنی اکالی دل (ایس اے ڈے) کے رہنما منجندر سنگھ سرسا نے چند روز قبل این سی بی میں شکایت درج کروائی تھی۔

انہوں نے شکایت میں کہا تھا کہ کرن جوہر کی گزشتہ برس ہونے والی پارٹی میں منشیات کا استعمال بھی کیا گیا تھا اور منجندر سنگھ نے اس سلسلے میں این سی بی کے ڈائریکٹر جنرل راکیش آستھانا سے ملاقات بھی کی تھی۔

این سی بی نے ان کی شکایت کا نوٹس لیا تھا اور وائرل ویڈیو کو تصدیق کے لیے بھیجا تھا۔

مزید پڑھیں: منشیات کیس:دھرما پروڈکشنز کے 2 ملازمین سے پوچھ گچھ، کرن جوہر کو طلب کرنے کا امکان

25 ستمبر کو منجندر سنگھ سرسا نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دھرما پرڈوکشنز کے سربراہ کرن جوہر کو سال 2019 میں منعقد کی جانے والی ڈرگ پارٹی سے متعلق این سی بی کی جانب سے جلد سمن جاری کرنے کا امکان ہے۔

کرن جوہر کے علاوہ منجندر سنگھ سرسا نے دپیکا پڈوکون، ملائیکا اروڑا، ارجن کپور، شاہد کپور، وکی کوشال، ورن دھون اور دیگر اسٹارز کے خلاف بھی شکایت درج کروائی تھی۔

انہوں نے الزام لگایا تھا کہ پارٹی میں شریک ہونے والے افراد نے 'منشیات کا استعمال' کیا تھا۔

بعدازاں کرن جوہر کی جانب سے باضابطہ بیان جاری کیا گیا جس میں انہوں نے خود پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے جھوٹا قرار دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: سشانت سنگھ خودکشی تحقیقات: مہیش بھٹ، کرن جوہر کے منیجر طلب

انڈیا ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق دھرما پروڈکشنز کے مالک کرن جوہر نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ وہ منشیات نہیں لیتے نہ اسے فروغ دیتے ہیں اور نہ ہی کسی ایسے مواد کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری بیان میں کرن جوہر نے کہا کہ ’کچھ نیوز چینلز، پرنٹ/ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز غلط اور گمراہ کن رپورٹنگ کررہے ہیں کہ ایک پارٹی میں منشیات کا استعمال کیا جس کی میزبانی میں نے 28 جولائی 2019 کو اپنی رہائش گاہ پر کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے 2019 میں ہی اپنی پوزیشن کلیئر کردی تھی کہ الزامات جھوٹے تھے۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

کرن جوہر نے کہا کہ بدنیتی پر مبنی موجودہ مہم کے تناظر میں دہرا رہا ہوں کہ یہ الزامات مکمل طور پر بے بنیاد ہیں، پارٹی میں منشیات استعمال نہیں ہوئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں ایک مرتبہ پھر کہتا ہوں کہ میں منشیات نہیں لیتا نہ اسے فروغ دیتا یا ایسے مواد کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ تمام مذموم بیانات، نیوز آرٹیکلز میں غیر ضروری طور پر مجھے، میرے اہلخانہ،ساتھیوں اور دھرما پروڈکشن کو نفرت، توہین اور تضحیک کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

کشیتیج روی پرساد اور انوبھو چوپڑا سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کرن جوہر نے کہا کہ وہ دھرما پروڈکشنز کا حصہ نہیں اور نہ ہی ان کے ساتھی ہیں۔

کرن جوہر نے کہا کہ لوگ اپنی زندگیوں میں جو بھی کرتے ہیں دھرما پروڈکشنز کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ انوبھو چوپڑا دھرما پروڈکشنز کے ملازم نہیں ہیں، وہ صرف 2 ماہ کے لیے ایک فلم کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر ہم سے وابستہ تھے۔

کرن جوہر نے کہا کہ انوبھو چوپڑا نومبر 2011 سے جنوری 2012 تک ہم سے وابستہ تھے اور اس کے بعد انہوں نے دھرما پروڈکشنز کا کوئی اور پروجیکٹ نہیں کیا۔

بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ کشیتیج روی پرسادنومبر 2019 میں کنٹریکٹ بنیادوں پر دھرماٹک انٹرٹینمنٹ کے ایگزیکٹو پروڈیوسرز کے طور پر تعینات ہوئے تھے جو مکمل نہیں ہوا تھا۔

این سی بی نے ورسووا میں کشتیج روی پرساد کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا— فوٹو: پنک ولا
این سی بی نے ورسووا میں کشتیج روی پرساد کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا— فوٹو: پنک ولا

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا جھوٹے الزامات لگارہا ہے، امید کرتا ہوں کہ میڈیا اراکین تحمل کا مظاہرہ کریں گے بصورت دیگر اپنے خلاف بے بنیاد حملوں کے جواب میں اپنے حقوق کے قانونی تحفظ کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوگا۔

خیال رہے کہ این سی بی کی جانب سے کرن جوہر کی دھرما پرڈوکشن کے 2 ملازمین سے بھی پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

این سی بی نے ورسووا میں کشتیج روی پرساد کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا، رپورٹس کے مطابق ان کی رہائش گاہ سے چرس برآمد ہوئی تھی۔

اس کے ساتھ ہی این سی بی نے دھرما پرڈوکشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر انوبھو چوپڑا سے بھی تفتیش کی تھی۔

کشتیج روی پرساد سے پوچھ گچھ کی گئی تھی اور انہوں نے منشیات کیس میں کئی بڑے ناموں کا انکشاف بھی کیا تھا۔

یہ بھی رپورٹ کیا گیا تھا کہ این سی بی کو لگتا ہے کہ کشتیج روی پرساد انہیں بڑے کارٹیل کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ بولی وڈ میں منشیات کا گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بولی وڈ اداکار سُشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کرلی

میڈیا رپورٹس کے مطابق کشتیج روی پرساد اور انوبھو سے نہ صرف بولی وڈ میں منشیات کے گٹھ جوڑ بلکہ کرن جوہر کے گھر میں 2019 میں ہونے والی پارٹی کی ویڈیو سے متعلق بھی تفتیش کی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ بولی وڈ فلم نگری میں منشیات کے استعمال کا معاملہ سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد سامنے آیا تھا جنہوں نے 14 جون کو خودکشی کرلی تھی۔

8 ستمبر کو اداکار کی سابق گرل فرینڈ ریا چکر بورتی کو ا رواں برس جون میں خودکشی کرنے والے سشانت سنگھ راجپوت کے لیے منشیات کا بندوبست کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔