مقبول اداکار ہمایوں اشرف کا کہنا ہے کہ پہلے وہ سوشل میڈیا پر آنے والے میسیجز کے جوابات دیا کرتے تھے لیکن اب وہ ایسا نہیں کرتے، کیوں کہ میسیجز بھیجنے والے افراد اسکرین شاٹ لے کر انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کردیتے ہیں۔

ہمایوں اشرف نے حال ہی میں مزاحیہ پروگرام ’مذاق رات‘ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے کیریئر سمیت دیگر معاملات پر کھل کر باتیں کیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ شروع میں ملازمت کرتے تھے لیکن پھر انہوں نے شوبز میں جانےکا فیصلہ کیا اور شروع میں انہیں انتہائی مشکل حالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

ان کے مطابق ملازمت چھوڑنے کے بعد ایسا وقت بھی آیا کہ ان کے پاس پانچ روپے تک نہیں تھے جب کہ کیریئر کے آغاز میں وہ ماڈلنگ کے دور میں بھی پبلک بسز میں سفر کرتے رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا انداز ایسا ہوتا تھا کہ بس میں سفر کرنے والے لوگ بھی ان سے پوچھتے تھے کہ وہ اداکار ہیں؟

ہمایوں اشرف کے مطابق لوگوں کی جانب سے اداکار کہنے پر وہ خوش ہوتے تھے اور انہیں لگتا تھا کہ انہوں نے اپنے مستقبل کے لیے بہتر فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ماڈلنگ کے بعد ابتدائی طور پر وہ کچھ سیکنڈز کے کردار کرنے لگے تھے اور انہیں مرکزی کردار حاصل کرنے میں بہت وقت لگا۔

پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ اگرچہ وہ اسکرپٹ پڑھتے وقت کردار کو دیکھ کر ہی پیش کش قبول کرتے ہیں لیکن اگر پروڈیوسر زیادہ پیسے دے تو وہ کردار کا خیال نہیں کرتے۔

انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ ایک ڈرامے میں ہدایت کار نے انہیں کاسٹ کیا جب کہ اسی ڈرامے کے پروڈیوسر نے دوسرے اداکار کو مرکزی کردار کے لیے کاسٹ کیا، پھر انہیں وہ کردار چھوڑنا پڑا، کیوں کہ پیسے تو پروڈیوسر نے ہی دینے تھے اور انہوں نے اپنی پسند کا اداکار کاسٹ کرلیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے انکشاف کیا کہ جب عمران اشرف انڈسٹری میں نئے آئے تو لوگ ان سے پوچھتے تھے کہ وہ ان کے بھائی ہیں اور اب لوگ ان سے یہ پوچھتے ہیں کہ آپ عمران اشرف کے بھائی ہیں؟

پروگرام کے دوران ہمایوں اشرف اور میزبان عمران اشرف نے واضح کیا کہ نام میں اشرف ہونے کی وجہ سے انہیں بھائی سمجھا جاتا ہے لیکن وہ حقیقی بھائی نہیں، البتہ ان کا رشتہ بھائیوں جیسا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ہمایوں اشرف نے بتایا کہ اب وہ کسی کو بھی سوشل میڈیا پر میسیجز کے جوابات نہیں دیتے، پہلے وہ جوابات دیا کرتے تھے۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ میسیجز کے جواب دیتے ہیں تو سوال کرنے والے لوگ جواب کا اسکرین شاٹ لے کر سوشل میڈیا پر شیئر کردیتے ہیں، اس لیے اب وہ جواب نہیں دیتے۔

انہوں نے دلیل دی کہ مسیجز کے اسکرین شاٹ لے کر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والے افراد کا مقصد ہی غلط ہوتا ہے، وہ لالچ کے تحت میسیجز کرتے ہیں، اس لیے اب وہ کسی کو جواب نہیں دیتے۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں