اسرائیل، حماس جنگ امن و سلامتی کو درپیش خطرات کو مزید بڑھا سکتی ہے، اتونیو گوتریس

06 دسمبر 2023
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ امن عامہ کے درہم برہم ہونے کا شدید خطرہ ہے— فائل فوٹو: رائٹرز
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ امن عامہ کے درہم برہم ہونے کا شدید خطرہ ہے— فائل فوٹو: رائٹرز

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سلامتی کونسل کو خبردار کیا کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بین الاقوامی امن اور سلامتی کو درپیش موجودہ خطرات کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ کے بانی چارٹر کے شاذ و نادر ہی استعمال ہونے والے آرٹیکل 99 کا استعمال کیا جو انہیں کسی بھی ایسے معاملے پر سلامتی کونسل کی توجہ دلانے کا اختیار دیتا ہے جس سے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

انہوں نے 15 رکنی کونسل کو لکھے ایک خط میں کہا کہ امن عامہ کے درہم برہم ہونے کا شدید خطرہ ہے، صورتحال تیزی سے تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے جس کے فلسطینیوں اور خطے میں امن و سلامتی پر انتہائی ہولناک اثرات مرتب ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے خط میں کہا کہ اس طرح کے نتائج سے ہر حال میں گریز کیا جانا چاہیے۔

2017 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اقوام متحدہ کے سربراہ نے اپنے اس اختیار کا استعمال کیا ہے۔

سلامتی کونسل کی صدارت تبدیل ہوتی رہتی ہے اور وہ اس وقت ایکواڈور کے پاس ہے۔

سلامتی کونسل کے ارکان پر زور دیتے ہوئے کہ انتونیو گوتریس نے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے اعلان کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں صحت کی دیکھ بھال کا نظام تباہ ہو رہا ہے اور شہریوں کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات انسانی بنیادوں پر کسی بھی موثر اقدام کو ناممکن بنا رہے ہیں اور غزہ میں کوئی جگہ بھی محفوظ نہیں ہے۔

غزہ کی پٹی کے محصور ساحلی علاقے پر حکومت کرنے والے اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل کے خلاف کارروائی کی تھی جس میں 1200 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ کئی سو کو حماس نے یرغمال بنا لیا تھا۔

انتونیو گوتیرس نے کہا کہ موجودہ صورتحال خطے میں امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے، انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے ذریعے انسانی بقا کی بحالی ممکن ہے اور غزہ کی پٹی پر امداد کو بروقت پہنچایا جا سکتا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق سلامتی کونسل کے ارکان انسانی امداد کے حوالے سے نئی قرارداد کے مسودے پر کام کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیل کی جانب سے جاری مسلسل بمباری کے نتیجے میں اب تک کم از کم 16 ہزار 200 افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں سے اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہیں۔

اس کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ لاپتا ہیں جن کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے وہ بمباری کے نتیجے میں تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں