پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کا طعنہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں سے شہباز شریف کا حلقہ بھی متاثر ہوا ہے، 2018 میں میرے حلقے کے 3حصے کیے گئے عمران خان کو جتوانے کے لیے اور اب 4 کردیے گئے ہیں اور والٹن کنٹونمنٹ بورڈ کی10 وارڈز ہیں اور ایک کنٹونمنٹ بورڈ میں قومی اسمبلی کے 4 حلقے ڈال دیے گئے ہیں، اس پر میں الیکشن کمیشن میں بھی گیا مگر ہماری بات نہیں سنی گئی۔

الیکشن سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سعد رفیق نے کہا کہ الیکشن کا ماحول ٹھنڈا ہے کیونکہ ابھی حلقہ بندیوں کے مسائل چل رہے ہیں اور واضح نہیں ہے کہ کس نے کہاں سے لڑنا ہے اور ابھی جماعتیں ابھی اپنے امیدواروں کا انتخاب کر رہی ہیں تو جیسے ہی شیڈول آجائے گا تو گہما گہمی شروع ہوجائے گی۔

الیکشن میں تاخیر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جن کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ کوئی خرابی پیدا ہو لیکن کوئی سیاسی جماعت اس کو سپورٹ نہیں کرتی،الیکشن 8 فروری کو ہی ہونے چاہیے ایک گھنٹہ بھی تاخیر نہیں ہونی چاہیے کیونکہ آگے سینیٹ کے بھی انتخابات ہیں مارچ میں، اگر الیکشن وقت پر نہیں ہوئے تو آگے حکومت بننی ہے، کئی لوگوں نے حلف اٹھانے ہیں تو سینیٹ کیسے مکمل ہوگی؟

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ابھی وقتی ریلیف تو مل گیا آئی ایم ایف سے مگر یہ طویل مدتی نہیں ہے تو جب تک عوامی مینڈیٹ سے کوئی حکومت منتخب نہیں ہوتی تب تک معیشت ٹھیک نہیں ہوسکتی، یہ منتخب لوگوں کا کام ہے کہ وہ قانون سازی کریں اور عالمی ادارے بھی انہیں ہی سنجیدگی سے لیتے ہیں تو الیکشن وقت پر ہونے چاہیے اور ہم تیار ہیں۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پاکستان ترقی پذیر ملک ہے جس میں 4 مارشل لا لگے ہیں تو ان کی وجہ سے بڑی خرابی ہوئی اور سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے پارٹیوں کو کھڑا نہیں کیا جس کی سزا ہم نے بھگتی ہے،تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کو الیکٹیبلز پر توقع کرنا پڑتا ہے اگر ہم جماعتوں کو منظم کریں تو ان پر انحصار کم ہوجائے گا،یہ ہم سب کو ہی کرنا پڑے گا ورنہ مشکل ہوجائے گی۔

طالب علموں کی تنطیم کی بحالی کے حوالے سے سعد رفیق نے کہا کہ ان کو لازمی بحال ہونا چاہیے مگر کچھ شرائط کے ساتھ، کسی بھی غیر طالب علم کو اس میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے،کوئی بھی طلبہ تنظیم جو سیاسی جماعتوں کے ساتھ منسلک ہوجاتی ہیں تو اس کا فائدہ ہونے کے بجائے نقصان ہوجاتا ہے ، اس میں دنگے فساد لڑائیاں ہوجاتی ہیں اور اس سے تعلیمی عمل کا نقصان ہوتا ہے تو ہماری پہلی ترجیح یہ ہے کہ بچے پڑھیں اور اپنے خاندان کی خدمت کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم بلدیاتی اداروں پر توجہ نہیں دے رہے ہیں، جب جس کی حکومت آتی ہے وہ چاہتے ہیں کہ اس کے اختیارات سلب کیے جائیں، اس بار یہ ہمارے منشور میں ہے کہ ہم بلدیاتی اداروں کو مضبوط کریں اور ایم کیو ایم بھی یہی چاہتی ہے کہ آئین کے مطابق بلدیاتی اداروں کو تحفظ دیں۔

تبصرے (0) بند ہیں