ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی پر پابندی، خلاف ورزی پر دو سال سزا کا قانون منظور

اپ ڈیٹ 08 دسمبر 2023
ووٹنگ کے دوران 179 نشستوں پر مشتمل فولکیٹنگ میں 94 ووٹوں بل کے حق میں آئے جبکہ 77 نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا — فوٹو: رائٹرز
ووٹنگ کے دوران 179 نشستوں پر مشتمل فولکیٹنگ میں 94 ووٹوں بل کے حق میں آئے جبکہ 77 نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا — فوٹو: رائٹرز

ڈنمارک کی پارلیمنٹ نے قرآن پاک سمیت مذہبی تحریری مواد کی بے حرمتی اور توہین کو جرم قرار دینے کا قانون منظور کر لیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والے کو دو سال تک کی سزا دی جائے گی۔

خبر رساں ایجنسیوں ’اے ایف پی‘ اور ’رائٹرز‘ کے مطابق ڈنمارک میں ایک عرصے سے مقدس کتب بالخصوص قرآن و مقدس اوراق کی بے حرمتی کا سلسلہ جاری ہے جس کے خلاف مسلمان ممالک سراپا احتجاج ہیں اور انہوں نے ڈنمارک سے اس سلسلے کو فوری روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

’ایک تسلیم شدہ مذہبی کمیونٹی کے لیے مذہبی اہمیت کی حامل تحاریر کے ساتھ نامناسب سلوک پر پابندی‘ کے عنوان کے اس بل پر ووٹنگ کے دوران 179 نشستوں پر مشتمل فولکیٹنگ میں 94 ووٹوں بل کے حق میں آئے جبکہ 77 نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔

وزیر انصاف پیٹر ہملگارڈ نے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں ڈنمارک اور اس کے عوام کی سلامتی کی حفاظت کرنی چاہیے لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اب ہمیں ایک عرصے سے جاری منظم توہین کے خلاف بہتر تحفظ حاصل ہو۔

عملی طور پر اب مقدس اوراق یا تحریری مواد کو عوامی سطح پر جلانا، پھاڑنا یا توہین کرنا ممنوع ہو گا اور جو لوگ قانون کی خلاف ورزی کریں گے اس کا تین دن بعد جائزہ لیا جائے گا اور ان پر جرمانے یا 2 سال تک قید کی سزا دی جائے گی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اگر کسی فن پارے میں معمولی بے حرمتی کی گئی ہو گی لیکن بحیثیت مجموعی ایک فن کا مظہر یا فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ ہو گا تو یہ پابندی اس کا احاطہ نہیں کرتی۔

موسم گرما کے دوران، ڈنمارک اور پڑوسی ملک سویڈن میں قرآن پاک کو نذر آتش کیے جانے کے ساتھ ساتھ بے حرمتی کے واقعات پر پوری مسل دنیا میں شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔

رواں سال جولائی میں شعلہ بیان عالم مقتدا الصدر کی کال پر تقریباً ایک ہزار مظاہرین نے بغداد کے گرین زون میں ڈنمارک کے سفارت خانے کی طرف مارچ کی کوشش کی تھی۔

سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ڈنمارک نے عارضی طور پر سرحد پر سیکیورٹی سخت کردی تھی لیکن 22 اگست کے بعد سے سیکیورٹی صورتحال دوبارہ معمول پر آگئی تھی۔

پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال 21 جولائی سے 24 اکتوبر کے درمیان ڈنمارک میں 483 کتابوں یا جھنڈوں کو جلانے کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

ابتدائی طور پر اگست کے آخر میں اس بل کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس کا نفاذ مشکل ہو گیا تھا کیونکہ اس پر آزادی اظہار کو محدود کرنے کا الزام لگا تھا جس کے بعد اس بل میں ترمیم کی گئی تھی۔

اس بل کے تحت دراصل مذہبی اہمیت کی حامل اہم اشیا کا احاطہ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، بل کے ابتدائی مسودے پر سیاست دانوں، فنکاروں، میڈیا اور آزادی اظہار رائے کے ماہرین نے تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ یہ عملی طور پر اس توہین مذہب کے قانون کی واپسی ہے جسے ڈنمارک نے 2017 میں ختم کر دیا تھا۔

سویڈن بھی قرآن پاک کی بے حرمتی کو قانونی طور پر محدود کرنے کے طریقوں پر غور کر رہا ہے لیکن وہ ڈنمارک سے مختلف طریقہ اختیار کر رہا ہے۔

ڈنمارک اس سلسلے میں غور کر رہا ہے کہ عوامی سطح پر احتجاج کے لیے درخواستوں پر فیصلہ کرتے وقت پولیس کو قومی سلامتی کا خیال رکھنا چاہیے یا نہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں