ملکی معیشت میں اسٹاک ایکسچینج کا اہم کردار ہے، نگران وزیر اعظم

اپ ڈیٹ 08 دسمبر 2023
وزیراعظم نے کہا کہ ہم ایسے معاشی استحکام کے لیےکوشاں ہیں، جس کے ثمرات سے ہر طبقہ مستفید ہو— فوٹو: ڈان نیوز
وزیراعظم نے کہا کہ ہم ایسے معاشی استحکام کے لیےکوشاں ہیں، جس کے ثمرات سے ہر طبقہ مستفید ہو— فوٹو: ڈان نیوز

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ملکی معیشت میں اسٹاک ایکسچینج کا اہم کردار ہے۔

کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مالی سال کے آغاز پر معیشت کو متعدد چیلنجز درپیش تھے، چیلنج کوقبول کرتے ہوئے ڈالر کی قیمت کو نیچے لے کر آئے۔

نگران وزیراعظم نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ اسٹینڈ بائی معاہدے کے نتیجے میں سرمایہ کاروں میں اعتماد آیا۔

مزید کہا کہ معیشت کی بہترصورتحال کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان رہا، کراچی اسٹاک مارکیٹ اس وقت اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، معیشت کی بہتری کے لیےسرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرتے رہیں گے۔

واضح رہے کہ 3 نومبر کو صدر مملکت اور چیف الیکشن کمشنر کے درمیان عام انتخابات کی تاریخ پر اتفاق ہونے کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ساڑھے 6 سال بعد انڈیکس 53 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر گیا تھا۔

جس کے بعد سے اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی کا رجحان جاری ہے، اور 28 نومبر کو کے ایس ای-100 انڈیکس تاریخ میں پہلی بار 60 ہزار کی نفسیاتی حد بھی عبور کر گیا تھا، آج بھی انڈیکس 65 ہزار کی سطح بھی عبور کر گیا۔

انوار الحق کاکڑ نے بتایا کہ ایسے معاشی نظام کے لیے کوشاں ہیں، جس کے ثمرات سے ہر طبقہ مستفید ہو، مزید کہا کہ حکومتی سکیورٹیز آکشنز ، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے، قرضوں کے حصول میں آسانی اور شفافیت کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے جا رہےہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے سرمایہ کاروں کی طرف سے حکومتی اجارہ سکوک کی پہلی پرائمری آکشن میں شرکت کا خیر مقدم کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ ریٹیل سرمایہ کاروں کی بالخصوص حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے، اسٹاک بروکر ایسوسی ایشن ، ایس ای سی پی اور مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے پرائمری مارکیٹ آکشن کو فروغ دینے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ سے کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں مددملتی ہے، ترقی اور خوشحالی کی طرف آگے بڑھنے کے مواقع ملتے ہیں، رواں سال ہماری معیشت کو مختلف چیلنجوں کا سامنا رہا ہے اور حکومت نے ڈھانچہ جاتی اور مائیکرو اقتصادی مسائل کو حل کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں معیشت کو دوبارہ اپنے راستے پر گامزن کرنے کے لیے تمام متعلقہ فریقین کے تعاون کو سراہتے ہیں، جس سے ڈالر کی قدر کو نیچے لانے میں مدد ملی ہے، جو کہ 5 ستمبر 2023 کو 307 روپے تک پہنچ گیا تھا اور آج یہ انٹر بینک میں 284 روپے کے لگ بھگ ہے، اس سے افراط زر کی شرح میں بھی کمی ہوئی ہے۔

نگران وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کے ان مثبت اقدامات سے ملک میں سازگار کاروباری سرگرمیوں کے لیے ماحول پیدا ہوا ہے، ملکی معیشت کی بہتر صورتحال کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان ہے جو اس وقت تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت پائیدار اقتصادی ترقی اور معیشت کی بہتری اور کیپٹل مارکیٹ کے فروغ کے لیے سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرتی رہے گی، ہمیں جدت کے فروغ، ریگولیٹری فریم ورک میں بہتری لانے اورشفافیت کے لیے کوششیں جاری رکھنی چاہئیں تاکہ وہ بنیاد مستحکم رہے، جس پر ہماری کیپٹل مارکیٹ کھڑی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم ایسے معاشی استحکام کے لیےکوشاں ہیں، جس کے ثمرات سے ہر طبقہ مستفید ہو، بعدازاں وزیراعظم نے رسمی گھنٹہ بجا کرسٹاک مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں کا آغاز کیا۔

’صحت کے شعبے میں ڈیجیٹلائزیشن ایک بہترین ذریعہ ہے‘

—فوٹو: ڈان نیوز
—فوٹو: ڈان نیوز

بعد ازاں، آغا خان یونیورسٹی میں ہیلتھ ٹیک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے میں ڈیجیٹلائزیشن ایک بہترین ذریعہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا، سیلاب میں آغاخان یونیورسٹی نے بہترین خدمات انجام دیں، آغاخان یونیورسٹی تعلیمی میدان میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔

نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے دنیا کے ہر شعبے میں آسانی پیدا کی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں