متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے ملاقات کے دوران حکومت سازی کی خبروں کو مسترد کردیا۔

جاتی امرا لاہور میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے ملاقات کرنے کے بعد کراچی پہنچنے پر ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار، گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کے دوران حکومت سازی، معاہدے اور مطالبات سے متعلق خبریں درست نہیں، اس حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سازی سے متعلق کوئی گفتگو کا آغاز نہیں ہوا بلکہ پاکستان کو درپیش خطرات، بحران، مسائل سے نکالنے کے لیے باہمی تعاون کے حوالے سے بات ہوئی ہے، بات اقتدار کی نہیں عوام کے اختیار اور ملکی مفادات کی ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ انتخابات نے ملک میں چیلنجنگ صورتحال پیدا کردی ہے، کامیابی کے بعد سیاسی پارٹیوں کو مفادات پس پشت رکھنے ہوں گے،

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم کیوایم کا کنوینر سے لے کر کارکن تک انتخابات میں جیتا ہے، اس وقت سیاسی قوتوں کے درمیان تصادم ملک کو بڑے بحران میں دھکیل دے گا۔

یاد رہے کہ قبل ازیں ڈان نیوز کے مطابق وفاق میں حکومت سازی کے لیے لاہور میں ایم کیو ایم پاکستان کا وفد (ن) لیگ کی اعلیٰ قیادت سے ملنے جاتی امرا پہنچا جہاں وفد ایک گھنٹہ طویل ملاقات کے بعد جاتی امرا سے روانہ ہوا تھا۔

کنوینر خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں ڈاکٹر فاروق ستار، کامران ٹیسوری اور مصطفیٰ کمال پر مشتمل ایم کیو ایم پی کا وفد ساڑھے گیارہ بجے بعد نواز شریف کی رہائش گاہ پہنچا جہاں مسلم لیگ (ن) کے قائد سمیت مریم نواز، خواجہ سعد رفیق، مریم اورنگزیب سمیت دیگر اہم رہنما موجود تھے۔

ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اورایم کیو ایم کے درمیان آئندہ مل کر چلنے پر اتفاق ہوگیا ہے، دونوں جماعتیں حکومت سازی کے مشاورتی عمل میں شریک رہیں گی۔

ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایم کیو ایم نے مطالبہ کیا کہ کراچی میں وفاق کے ترقیاتی منصوبوں میں ایم کیو ایم کو آن بورڈ رکھا جائے گا۔

ایم کیو ایم نے پیپلزپارٹی سے متعلق اپنے خدشات ظاہر کیے تو نواز شریف نے ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان مصالحانہ کردار ادا کرنے کے لیے شہبازشریف کو ہدایت کردی۔

خیال رہے کہ یہ ملاقات اس وقت ہوئی ہے جب مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے پی ٹی آئی کو علاوہ تمام سیاسی جماعتوں سے مخلوط حکومت کے طور پر مل کر کام کرنے کی پیشکش کی تھی۔

ایک روز قبل مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم اورنگزیب نے نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری سے ملاقات کی ہے تاہم دونوں مخلوط حکومت کے قیام کے حوالے سے اپنی جماعتوں سے مشاورت کریں گے۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں