مولانا فضل الرحمٰن نے پارلیمانی سیاست چھوڑنے کا عندیہ دے دیا

اپ ڈیٹ 19 فروری 2024
جمعیت علمائے اسلام(جے یو آئی۔ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن— فائل فوٹو: ڈان نیوز
جمعیت علمائے اسلام(جے یو آئی۔ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن— فائل فوٹو: ڈان نیوز

جمعیت علمائے اسلام(جے یو آئی۔ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پارلیمانی سیاست چھوڑنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے جنرل کونسل سے پارلیمانی سیاست چھوڑنے کی سفارش کی ہےکیونکہ ہمارے فیصلے عوام نہیں کوئی اور کرتا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پی ٹی آئی کا وفد پہلے بھی کئی بار آیا اور انہیں ہمیشہ عزت دی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ایسا ماحول ہو جس میں مذاکرات ہوں اور مسئلے کا حل نکلے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والوں کے آنے اور گفتگو کرنے سے ماحول تشکیل پایا ہے لیکن ابھی دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی اتحاد نہیں ہوا، ہم اپنی پوزیشن پر ہیں اور پی ٹی آئی والے اپنی پوزیشن پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی میں 12 سال اختلاف رہا ہے، دونوں جماعتوں کے مابین دیوار نہیں پہاڑ حائل ہے جنہیں عبور کرنا آسان کام نہیں، ہم نے ان کے سامنے بھی اچھے انداز میں اپنے تحفظات رکھے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کو ملک بھر کے انتخابات پر تحفظات ہیں، ہمیں خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے نتائج سے متعلق بھی تحفظات ہیں، اگر بات مسئلے کے حل کی طرف پہنچتی ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں، سیاسی آدمی نہ مذاکرات کا انکار کرتا ہے اور نہ مسئلے کے حل سے انکار کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے الیکشن کو کیسے تسلیم کریں جس پر سوالات اٹھیں، ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر میدان میں نکلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 2018 کے بعد موجودہ الیکشن بھی متنازع ہوگیا ہے، 2018 میں تقریباً یہی مینڈیٹ تھا اس وقت پی پی پی اور مسلم لیگ(ن) کہہ رہے تھے کہ دھاندلی ہوئی، آج اسی مینڈیٹ کے ساتھ کہہ رہے ہیں الیکشن ٹھیک ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والوں کو بھی کہتا ہوں آپ کا بھی تقریباً وہی مینڈیٹ ہے، آج پی ٹی آئی والے دھاندلی کہہ رہے ہیں لیکن 2018 میں کہا الیکشن ٹھیک ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ ہم نے اپنی جنرل کونسل سے پارلیمانی سیاست چھوڑنے کی سفارش کی ہے اور پارلیمانی سیاست چھوڑنے پر غور شروع کردیا ہے، ہم کیوں انتخابات میں کیوں اتر رہے ہیں، پیسہ اور توانائیاں بھی صرف ہوتی ہیں، ہم کسی لیے یہ سب عمل کرتے ہیں جب ہمارے فیصلے عوام نہیں کوئی اور کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایوان میں نہیں تو پھر میدان ہی فیصلہ کریں گے، ہم نے اسلحہ نہیں اٹھانا ہے بلکہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی تحریک کو آگے بڑھانا ہے اور اس ملک کو تحریکوں کی بنیاد پر ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا کہ ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو مستعفی ہوجانا چاہیے، وہ ذمے داری قبول کریں، ان کے پاس ایک بھی نتیجے کا اعلان کرنے کا اختیار نہیں تھا اور وہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں یرغمال تھے جبکہ ہم نے الیکشن کمیشن کے شفاف الیکشن کے بیان کو مسترد کردیا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں