بھارتی بندرگاہوں کے مزدوروں کا فوجی ساز و سامان اسرائیل لے جانے والے جہازوں کا بائیکاٹ

اپ ڈیٹ 20 فروری 2024
فیڈریشن نے اپنے ممبران سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ اب کسی ایسے بحری جہاز کو نہ سنبھالیں جو فوجی سازوسامان لے کر فلسطین یا اسرائیل جا رہا ہو—فوٹو:لوجک انسائڈر۔کو
فیڈریشن نے اپنے ممبران سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ اب کسی ایسے بحری جہاز کو نہ سنبھالیں جو فوجی سازوسامان لے کر فلسطین یا اسرائیل جا رہا ہو—فوٹو:لوجک انسائڈر۔کو

بھارت میں پورٹ ورکرز یونین نے اسرائیل فوجی سازوسامان لے کر جانے والے جہازوں کو سنبھالنے سے انکار کردیا ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے ’انڈیا ٹوڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق ’واٹر ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن آف انڈیا‘ نے کہا کہ وہ اسرائیل یا کسی بھی دوسرے ملک سے فلسطین جانے والے ہتھیاروں سے لیس کنٹینر سے سامان اتاریں گے نہ اس پر لوڈ کریں گے۔

’واٹر ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن آف انڈیا‘ ملک کی 11 بڑی بندرگاہوں پر 3ہزار 500 سے زیادہ ورکرز کی نمائندگی کرنے والی تنظیم ہے۔

فیڈریشن نے اپنے ممبران سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ اب کسی ایسے بحری جہاز کو نہ سنبھالیں جو فوجی سازوسامان لے کر فلسطین یا اسرائیل جا رہا ہو۔

فیڈریشن نے غزہ میں ’فوری جنگ بندی‘ کا مطالبہ بھی کیا۔

فیڈریشن نے بھارتی خبر رساں ادارے دی وائر کو بتایا کہ ’ہم نے فیصلہ کیا کہ اپنا کردار ادا کریں گے، فوجی ساز و سامان سے لدے ایسے کسی بھی کنٹینر کو ہینڈل نہیں کریں گے، جو اسرائیل کو مزید خواتین اور بچے مارنے میں مدد دے گا، جیسا کہ ہم ہر روز خبروں میں دیکھ اور پڑھ رہے ہیں۔‘

واضح رہے کہ گزشتہ چند روز قبل ہی یہ خبر سامنے آئی تھی کہ اسرائیلی فوج کو 20 بھارتی ساختہ ہرمز اور 900 ڈرون موصول ہوئے جنہیں غزہ پر استعمال کیا گیا۔

یاد رہے کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے باعث 7 اکتوبر کے بعد سے اب تک 28 ہزار 473 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جب کہ ہزاروں زخمی ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں