پاکستان بھر میں مسلسل پانچویں روز بھی سماجی پلیٹ فارم ایکس کی بندش برقرار ہے تاہم پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور نگران حکومت کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

ملک میں ایکس کی بندش پر انسانی حقوق اور صحافیوں کی تنظیموں نے مذمت کی ہے جبکہ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے اداروں نے بھی ایکس کی بندش سے ہونے والے نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ایکس کی بندش ایسے موقع پر سامنے آئی تھی جب راولپنڈی کے کمشنر لیاقت علی چٹھہ کی جانب سے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے الزامات سامنے آئے تھے۔

کچھ شہروں میں وقفے وقفے سے ایکس کی سروس بحال ہوئی تھی لیکن لیکن اس باوجود صارفین نے اس کے سست چلنے کی شکایات کی ہے جبکہ لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں اب تک سروس مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیٹ بلاکس کے ڈائریکٹر الپ ٹوکر نے ڈان کو بتایا کہ تازہ ترین میٹرکس سے پتہ چلتا ہے کہ ایکس کی رسائی صرف کچھ صارفین کے لیے جزوی طور پر یا وقفے وقفے سے بحال کر دی گئی ہے جبکہ کچھ علاقوں میں پابندیاں برقرار ہیں۔

دوسری جانب ایکس پر کی گئی پوسٹ کے مطابق نیٹ بلاکس کے مطابق ہے کہ کچھ جگہوں پر ایکس کی سروس بحال کردی گئی ہے۔

پوسٹ میں کہا گیا کہ ’میٹرکس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں 72 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی صارفین ایکس سے محروم ہیں،تاہم کچھ علاقوں میں صارفین کو رسائی حاصل ہے‘۔

ایکس کی بندش سے متعلق جب ڈان نے تبصرہ کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ترجمان سے رابطہ کیا، لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ڈیجیٹل حقوق کے کارکن اسامہ خلجی نے اے ایف پی کو بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ناقابل رسائی ہے کیونکہ اسے عوام احتجاج کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایکس کی بندش پر کسی قسم کا کوئی نوٹس، اعلان نہیں کیا گیا اور پلیٹ فارم کب بحال کیا جائے گا اس حوالے سے بھی کوئی بیان جاری نہیں ہوا، جس کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال اور غلط معلومات پھیل رہی ہیں۔

دوسری جانب امریکی رکن کانگریس گریگ کیسر نے امریکی محکمہ خارجہ پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستانی حکام سے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ تک رسائی بحال کرنے کا مطالبہ کرے، جو چوتھے روز بھی بند ہے۔

’ایکس‘ پر ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی شہری ٹوئٹر پر بعد از انتخابات مداخلت کو بے نقاب کرتے ہیں، لیکن پاکستانی حکام اب ٹوئٹر تک رسائی روک رہے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں