بھارت میں کسانوں کا احتجاج گیارہویں روز میں داخل ہوگیا، مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بھارت ریاست ہریانہ میں جاری ’دہلی چلو مارچ‘ کے دوران کسانوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں، جھڑپوں کے نتیجے میں ایک اور کسان کی موت ہو گئی جس سے گزشتہ دو دنوں کے دوران مرنے والوں کی کل تعداد پانچ ہو گئی۔

ہزاروں کسان نے گزشتہ روز (23 فروری کو) یوم سیاہ منایا اور 26 فروری کو شاہراہوں پر ٹریکٹر ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب کسانوں کی تحریک سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے ملک میں اظہار رائے کی آزادی کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھارتی حکومت کے حکم کے بعد کچھ اکاؤنٹس اور پوسٹس کو ہٹا دیا ہے، جو مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کسانوں کی طرف سے فصلوں کی زیادہ قیمتوں کا مطالبہ کرنے والے جاری احتجاج سے منسلک ہیں۔

ایکس (ٹوئٹر) نے ایسی پوسٹ ہٹائے جانے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں لیکن کہا کہ وہ اس کارروائی سے متفق نہیں ہے اور یہ اقدام اظہار رائے کے خلاف ہیں۔

مختلف ویب سائٹس نے دعویٰ کیا کہ بھارتی حکومت کے ایکزیکٹیو آرڈدز کے تحت اکاؤنٹ بلاک کیے گئے۔

بھارتی صحافی مندیپ پونیا نے بتایا کہ ہم نے حقائق پر مبنی رپورٹنگ کی لیکن ہماری آواز کو بند کیا جا رہا ہے

اپوزیشن جماعتوں نے بھی کسانوں کے مطالبات پر غور کرنے میں ناکامی پر مودی حکومت پر شدید تنقید کی، ان کا کہنا ہے کہ مودی سرکار جمہوری ملک میں حقیقی آوازاں کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بھارتی کسان احتجاج کیوں کررہے ہیں؟

احتجاجی کسانوں نے گذشتہ ہفتے 13 فروری کو دہلی کی طرف مارچ شروع کیا تھا لیکن انہیں دارالحکومت سے تقریباً 200 کلومیٹر دور روک دیا گیا تھا جس کے بعد کسان رہنما اپنے مطالبات پر حکومت سے مذاکرات کر رہے تھے۔

تاہم 21 فروری کو اب کسان رہنماؤں کی جانب سے حکومتی تجاویز کو مسترد کر دیا تھا اور دوبارہ دہلی کی طرف مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات کے دوران مودی حکومت نے کسانوں کو یقین دہانی کروائی تھی کہ حکومت 5 سالہ معاہدے کے تحت کسانوں سے اناج خریدے گی تاہم احتجاجی کسانوں کی طرف سے کہا گیا کہ حکومتی پیشکش ’ہمارے مفاد میں نہیں۔‘

کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات پر اب بھی قائم ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکومت انھیں تمام 23 اناج ’منیمم سپورٹ پروگرام‘ کے تحت خریدنے کی ’قانونی گارنٹی‘ دے۔

بھارتی کاشت کاروں نے 2021 میں بھی ایسا ہی احتجاج کیا تھا، کاشت کار یوم جمہوریہ کے موقعے پر رکاوٹیں توڑتے ہوئے شہر میں داخل ہو گئے تھے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں