پنجاب اسمبلی کا اجلاس، مسلم لیگ(ن) کے ملک احمد خان اسپیکر، ظہیراقبال ڈپٹی اسپیکر منتخب

اپ ڈیٹ 24 فروری 2024
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نومنتخب ڈپٹی اسپیکر ظہیر اقبال سے عہدے کا حلف لے رہے ہیں— فوٹو: ڈان نیوز
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نومنتخب ڈپٹی اسپیکر ظہیر اقبال سے عہدے کا حلف لے رہے ہیں— فوٹو: ڈان نیوز
نومنتخب اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان اپنے عہدے کا حلف اٹھا رہے ہیں— فوٹو: ڈان نیوز
نومنتخب اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان اپنے عہدے کا حلف اٹھا رہے ہیں— فوٹو: ڈان نیوز
پنجاب اسمبلی میں اسپیکر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہوئی— فوٹو: ڈان نیوز
پنجاب اسمبلی میں اسپیکر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہوئی— فوٹو: ڈان نیوز

پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ(ن) کے امیدوار ملک احمد خان اسپیکر اور ظہیر اقبال ڈپٹی اسپیکر منتخب ہو گئے۔

ڈان نیوز کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 33منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا اور مریم نواز کے ایوان میں آتے ہی سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے مسلم لیگ(ن) کی قیادت کے خلاف نعرے بازی کی۔

اس کے جواب مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں نے بھی پی ٹی آئی قیادت کے خلاف نعرے بازی کی اور ارکان اسمبلی نشستوں پر کھڑے ہو کر ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔

اجلاس کے دوران خلیل طاہر سندھو کو مریم اورنگزیب نعرے لگانے کا اشارہ کرتی رہیں اور مسلم لیگ(ن) کے اراکین نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شدید نعرے لگائے۔

بعدازاں اسپیکر سبطین خان کی زیرصدارت پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو اسپیکر نے 5 نومنتخب اراکین سے حلف لیا۔

حلف لینے والوں میں سنی اتحاد کونسل کے حافظ فرحت، نوابزادہ وسیم بادوزئی اور مسلم لیگ(ق) کے چوہدری شافع حسین شامل ہیں۔

اجلاس کے دوران 20 منٹ کے لیے نماز کا وقفہ کیا گیا جس کے بعد اب ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

اسپیکر سبطین خان نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے اوپر لیبل نہیں لگوانا چاہتا کہ اسپیکر اجلاس ملتوی کرتے گئے، میں باعزت طریقے اس کرسی کو چھوڑ رہا ہوں اور اب آپ نے پانچ سال اکٹھا چلنا ہے۔

ان کا کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کے لوگوں کا نوٹیفکیشن نہیں ہوا ہے اور الیکشن کمیشن کو کہہ نہیں سکتا کہ انہیں بلوائیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن بنچز پر مخصوص نشستیں تین اقلیتی ممبران کو ملا کر 27 ممبران بنتے ہیں۔

اسپیکر نے بتایا کہ ایوان میں پہلے اسپیکر اور پھر ڈپٹی سپیکر کا الیکشن ہوگا۔

اس کے بعد سیکریٹری اسمبلی عامر حبیب نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا طریقہ کار ایوان میں بتایا جس کے بعد ایوان میں اسپیکر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل شروع ہوا۔

ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد اب گنتی کا عمل جاری ہے اور پولنگ مکمل ہونے پر اسپیکر نے اعلان کیا کوئی ممبر رہ گیا ہے تو ووٹ کاسٹ کر لے۔

پنجاب اسمبلی میں ووٹنگ کے بعد مسلم لیگ(ن) کے امیدوار ملک احمد خان اسپیکر منتخب ہو گئے۔

ڈان نیوز کے مطابق ووٹنگ میں مسلم لیگ(ن) کے ملک احمد خان کو 327 اراکین میں سے 225 ارکاین کے ووٹ ملے اور وہ بھاری اکثریت سے اسپیکر منتخب ہو گئے۔

ان کے مدمقابل سنی اتحاد کونسل کے احمد خان بھچر کو 100ووٹ ملے جبکہ اسپیکر کے انتخاب کے دوران 2 ووٹ مسترد ہوئے۔

جیسے ہی اسپیکر سبطین خان نے ملک احمد خان کے اسپیکر بننے کا اعلان کیا تو اراکین نے نعرے بازی کی اور ڈیسک بجا کر اس کا خیرمقدم کیا۔

ایوان میں موجود مسلم لیگ(ن)، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم لیگ(ق) کے اراکین پنجاب اسمبلی نے اسپیکر منتخب ہونے پر ملک احمد خان کو مبارکباد پیش کی۔

اسپیکر سبطین خان نے ملک احمد خان سے اسپیکر کے عہدے کا حلف لیا جس کے بعد مسلم لیگ(ن) کے رہنما نے اسپیکر کی کرسی سنبھال لی۔

اس کے بعد ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب بھی رائے شماری کے ذریعے ہوا۔

مسلم لیگ(ن) کے امیدوار ملک ظہیر اقبال چنڑ بھاری برتری کےساتھ ڈپٹی اسپیکر منتخب ہو گئے۔

ملک ظہیر اقبال چنڑ نے 220ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل سنی اتحاد کونسل کے امیدوار معین ریاض نے 103ووٹ لیے۔

ملک ظہیر کے منتخب ہونے کے بعد اسپیکرپنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے ان سے ڈپٹی اسپیکر کے عہدے کا حلف لیا۔

اسپیکر ملک احمد خان نے کہاکہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے 26فروری کا دن مقرر کیا گیا ہے۔

اس کے بعد اسپیکر پنجاب اسمبلی نے ایوان کی کارروائی 26فروری صبح 11بجے تک ملتوی کردی۔

تبصرے (0) بند ہیں