کراچی میں ریڈ زون میں سڑکوں کی بندش اور شاہراہ فیصل پر جمعیت علمائے اسلام کے دھرنے کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا اور شہر کی مختلف اہم شاہراہوں پر ٹریفک جام کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

آج کراچی میں سندھ اسمبلی میں ہونے والے اجلاس کی وجہ سے گورنرہاؤس، وزیراعلیٰ ہاؤس اور فوارہ چوک کے اطراف ٹریفک معطل کرتے ہوئے کنٹینر لگا کر راستے بند کردیے گئے تھے۔

ان راستوں کے ساتھ ساتھ سندھ اسمبلی اور اطراف کی سڑکوں پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمتنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

اس کے علاوہ جی ڈی اے، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے کارکنان پریس کلب کے سامنے جمع ہیں اور احتجاج کررہے ہیں جس کی وجہ سے اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔

اس کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام نے شاہراہ فیصل پر نردری کے قریب دھرنا دے دیا ہے جس سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی اور اطراف کی شاہراہوں پر بھی ٹریفک جام ہو گیا ہے۔

شارع فیصل بند ہونے کے سبب مسافروں کو ایئرپورٹ پہنچنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اس سے قبل سندھ اسمبلی کے اجلاس سے قبل کراچی میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے سندھ پولیس نے ٹریفک پلان جاری کردیا تھا۔

ٹریفک پولیس کے مطابق فوارہ چوک، سندھ کلب اورصدر سے آنے والی ٹریفک ایم آر کیانی چوک نہیں جائےگی جبکہ ٹریفک کو ایوان صدر کھجور چوک کی طرف موڑدیا جائے گا۔

پلان میں بتایا گیا کہ اردو بازار سےکورٹ روڈ جانے والی ٹریفک کو فریسکو چوک اور ریگل چوک موڑ دیا جائے گا جبکہ شاہین چوک سے آئی آئی چندریگر روڈ سے آنے والی ٹریفک کو ایم آر کیانی چوک کی طرف جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس کے علاوہ ٹریفک کو کھجور چوک یا پاکستان چوک کی طرف موڑ دیا جائے گا، چھتری چوک فریسکو چوک اور دیگر اطراف سے آنے والی ٹریفک ایم آر کیانی چوک کی طرف جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس ٹریفک کو پاکستان چوک کی طرف موڑ دیا جائے گا، ایوان صدر روڈ آرٹلری میدان تھانہ گلی اورسرور شہید روڈ کوسٹ گاڑد آفیسرز میس سے ایم آر کیانی چوک کی طرف جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

تبصرے (0) بند ہیں