پی آئی اے طیارہ حادثہ، وجہ جاننے اور والد کے سامان کیلئے لبنانی نژاد امریکی کی درخواست

26 فروری 2024
درخواست گزار نے کہا کہ تین سال بعد حادثے سے متعلق رپورٹ تو جاری کی گئی ہے لیکن حادثے کی وجہ نہیں بتائی گئی — فائل فوٹو: اے ایف پی
درخواست گزار نے کہا کہ تین سال بعد حادثے سے متعلق رپورٹ تو جاری کی گئی ہے لیکن حادثے کی وجہ نہیں بتائی گئی — فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی میں مئی 2020 میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی وجہ اور والد کے سامان کے لیے لبنانی نژاد امریکی نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔

لبنانی شہری نے درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ مئی 2020 میں پی آئی اے کا طیارہ کراچی میں گر گیا تھا، طیارے میں میرے والد عبدالفتح الہٰی بھی سفر کر رہے تھے جو جاں بحق ہوئے تھے۔

درخواست گزار نے کہا کہ تین سال بعد حادثے سے متعلق رپورٹ تو جاری کی گئی ہے لیکن حادثے کی وجہ نہیں بتائی گئی، حادثے کے بعد کسی کی لاش کسی اور کے ورثا کو دے دی گئی، جاں بحق لبنانی نژاد امریکی شہری کی لاش بھی کسی اور کے حوالے کردی گئی تھی۔

درخواست پر سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ امریکا سے بیٹے کو بلا کر ڈی این اے کے بعد لاش حوالے کر دی گئی تاہم سامان نہیں دیا گیا، حادثے کے بعد کی صورتحال کے بارے میں پی آئی اے کے کوئی رولز ہیں اور نہ ہی کوئی ایس او پیز۔

چیف جسٹس عقیل احمد عباسی نے سوال کیا کہ معلومات حاصل کر کے کیا کرنا چاہتے ہیں؟

وکیل نے کہا کہ صرف حادثے کی معلومات اور جاں بحق شہری کا سامان حاصل کرنا چاہتے ہیں کوئی معاوضہ نہیں چاہیے۔

چیف جسٹس عقیل احمد عباسی نے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ ہم آج حکم نامہ جاری کریں کل پی آئی اے پرائیویٹ ہو جائے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ معلومات حاصل کرنا ہمارا حق ہے، حادثے سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں۔

عدالت نے پی آئی اے، سول ایوی ایشن اتھارٹی اور دیگر کو نوٹس جاری کر کے فریقین سے تفصیلی جواب طلب کر لیا۔

تبصرے (0) بند ہیں