رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن) اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ صدر عارف علوی ایک بار پھر آئین شکنی کرناچاہتے ہیں، تو دستخط نہ کریں، 29 فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس ضرور ہوگا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایسی مثالیں بھی ہیں کہ پورےسیشن میں ارکان حلف نہ اٹھا سکے۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ صدر اگرسمری پردستخط نہ کریں تو مطلب وہ نہیں چاہتےکہ اجلاس ہو، آئین کے ساتھ کھیلا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی اجلاس بلانے پر آئین واضح ہے، صدر مملکت نے اعتراض لگاکرسمری واپس کردی، جن اراکین کا نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے، ان کا حلف ہوگا، دنیا بھر میں ہمارا مذاق بن رہا ہے۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ آئین کےساتھ کھیل کھیلاجارہاہے، صدر کو چاہیے تھا مسئلےکو طریقے سے حل کرتے، 29 فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس ضرور ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی اجلاس سے متعلق کنفیوژن پھیلائی جا رہی ہے، ہم اکھٹے مل کر وزیراعظم، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر منتخب کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ صدر عارف علوی کہتےہیں آئین مکمل نہیں ہے، اگر الیکشن دیر سے ہوئے تو آئین نے توثیق کردی۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کا ایوان مکمل نہ ہونے کا مؤقف درست نہیں، اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے صدر کے اعتراضات کا جواب بھیج دیا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں