سندھ سمیت ملک کے دیگر صوبوں اور علاقوں میں فروری کے اختتام اور مارچ کے شروع ہوتے ہی تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا سلسلہ شروع ہونے سے ٹھنڈ میں اضافہ ہوگیا، جس سے ملک بھر میں انفلوئنزا پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

سندھ کے دارالحکومت کراچی سمیت صوبے کے دیگر شہروں میں بھی 29 فروری اور یکم مارچ کو تیز ہواؤں کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش جاری رہی۔

سندھ سے قبل بلوچستان میں شدید بارشوں سے وہاں طغیانی ہوگئی اور صوبے میں ٹھنڈ پھیلنے سے بچوں، بزرگ افراد اور خواتین میں نزلہ، زکام، کھانسی اور بخار جیسی شکایات ہونے لگیں۔

ملک بھر میں بارشوں کے ساتھ ٹھنڈی ہوائیں چلنے سے مختلف بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے جب کہ بچے اور بزرگ افراد تھوڑی سے بھی بے احتیاطی میں انفلوئنزا کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ماہرین صحت نے بارشوں کی وجہ سے ٹھنڈ میں اضافے کے باعث بچوں اور بزرگ افراد کو گھروں تک محدود رہنے اور خود کو گرم لباس میں ڈھانپ کر رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق بارشوں کے موسم میں گرم غذائیں اور گرم مشروبات کا زیادہ استعمال کرکے خود کو گرم رکھا جائے اور بارش کے دوران محفوظ مقام سے باہر نکلنے سے گریز کیا جائے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ انفلوئنزا یا وبائی زکام بارشوں اور مون سون میں پھیلنے والی عام بیماری ہے.

یہ نزلہ زکام “انفلوئنزا “ کی وجہ سے ہوتا ہے اور چونکہ یہ وائرس کھلی فضا میں موجود ہوتا ہے اس لئے ایک فرد سے دوسرے میں بآسانی منتقل ہوجاتا ہے.

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ انفلوئنزا وائرس ہوا کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے اور ناک، گلے اور پھیپڑوں کو متاثر کرتا ہے. اس بیماری کی نشانیوں میں بہتی ہوئی ناک، جسم اور گلے میں شدید درد اور بخار شامل ہیں.

اس وبائی مرض سے بچنے کے لئے اچھی غذا لینا چاہیے تاکہ جسم کی قوت مدافعت زیادہ مضبوط ہو جو اس وائرس کو ختم کرسکے.

تبصرے (0) بند ہیں