• KHI: Asr 5:11pm Maghrib 7:16pm
  • LHR: Asr 4:54pm Maghrib 7:01pm
  • ISB: Asr 5:03pm Maghrib 7:11pm
  • KHI: Asr 5:11pm Maghrib 7:16pm
  • LHR: Asr 4:54pm Maghrib 7:01pm
  • ISB: Asr 5:03pm Maghrib 7:11pm

نئے صدر کا انتخاب: پارلیمان کا مشترکہ اجلاس 9 مارچ کو طلب

شائع March 3, 2024
پیپلزپارٹی کی جانب سے امیدوار آصف زرداری اور سنی اتحاد کونسل کی جانب سے امیدوار محمود خان اچکزئی کے کاغذات جمع کرادیے گئے—فائل فوٹو:
پیپلزپارٹی کی جانب سے امیدوار آصف زرداری اور سنی اتحاد کونسل کی جانب سے امیدوار محمود خان اچکزئی کے کاغذات جمع کرادیے گئے—فائل فوٹو:

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ملک کے نئے صدر کے انتخاب کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 9 مارچ کو طلب کرلیا۔

اسپیکر کی جانب سے طلب کردہ دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس 9 مارچ کی صبح 10 بجے منعقد ہوگا، اجلاس نئے صدر مملکت کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کے حوالے سے طلب کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر کے انتخاب کے لیے پیپلزپارٹی کی جانب سے امیدوار آصف علی زرداری اور سنی اتحاد کونسل کی جانب سے امیدوار محمود خان اچکزئی کے کاغذات جمع کرادیے گئے تھے۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صدارتی انتخاب کے لیے آصف زرداری کے کاغذات نامزدگی سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائے تھے، آصف زرداری کے تجویز کنندہ مراد علی شاہ جب کہ ناصر حسین شاہ تائید کنندہ تھے۔

دوسری جانب سنی اتحاد کونسل نے صدارتی انتخاب کے لیے محمود خان اچکزئی کے کاغذات اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائے، ان کے کاغذاتِ نامزدگی رہنما تحریک انصاف (پی ٹی آئی) لطیف کھوسہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائے۔

ان کے علاوہ عبدالقدوس اعوان نے بھی آزاد حیثیت سے صدارتی امیدوار کے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے۔

قبل ازیں صدارتی الیکشن کے لیے آصف زرداری کے کاغذات اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی جمع کروادیے گئے تھے۔

صدارتی انتخابات کا شیڈول

واضح رہے کہ 2 روز قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدر مملکت کا انتخاب 9 مارچ کو کرانے کا اعلان کیا تھا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے صدارتی الیکشن کے لیے جاری کردہ شیڈول کے مطابق صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی یکم مارچ دن 12 بجے تک جمع کروائے جاسکتے تھے۔

کاغذات نامزدگی کی اسکرونٹی کا عمل 4 مارچ تک مکمل کرلیا جائے گا، کاغذات نامزدگی 5 مارچ کو واپس لیے جاسکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق امیدواروں کی حتمی فہرست 6 مارچ کو شائع کی جائے گی جبکہ صدر کا انتخاب 9 مارچ کو ہوگا۔

آئین کے مطابق صدارتی انتخاب کا ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنر ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ 8 ستمبر 2023 کو ڈاکٹر عارف علوی 5 سالہ مدت پوری کرنے والے ملک کے جمہوری طور پر منتخب ہونے والے چوتھے صدر مملکت بن گئے تھے، ان کے عہدے کی مدت اُسی دن ختم ہو گئی تھی۔

تاہم صدر کے انتخاب کے لیے ضروری الیکٹورل کالج کی عدم موجودگی میں ڈاکٹر عارف علوی عہدے پر اب تک براجمان ہیں۔

اب چونکہ 8 فروری کو عام انتخابات ہوچکے اور اراکین قومی اسمبلی حلف اٹھا چکے ہیں، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدر کے انتخاب کا شیڈول جار کر دیا ہے۔

قانون کے تحت دونوں ایوانوں (قومی اسمبلی اور سینیٹ) اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی جانب سے صدر مملکت کو منتخب کیا جاتا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 44 (1) کے مطابق صدر اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے دن سے 5 سال کی مدت کے لیے اپنے عہدے پر فائز رہیں گے، لیکن وہ اس عہدے پر اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک ان کے جانشین کا انتخاب نہیں ہو جاتا۔

اپنی پوری مدت کے دوران ڈاکٹر عارف علوی تنازعات کا شکار رہے، ناقدین نے ان پر آئین کے ساتھ کھیلنے اور 77 آرڈیننسز جاری کر کے ایوان صدر کو ’آرڈیننس فیکٹری‘ میں تبدیل کرنے کا الزام عائد کیا۔

کارٹون

کارٹون : 29 مئی 2024
کارٹون : 28 مئی 2024