بھارت میں ہسپانوی خاتون سیاح ریپ کیس میں مزید 3 ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ پہلے سے گرفتار 3 ملزمان کو عدالت میں پیش کردیا گیا، کیس میں ملوث دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سینئر پولیس افسر پتامبر سنگھ کھیروار نے بتایا کہ ’ہم نے دیگر مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔‘

3 مارچ کو پولیس افسران نے تین ملزمان کو چہرے پر کپڑے باندھ کر عدالت میں پیش کیا تھا، تینوں کو بعد ازاں ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

ہسپانوی خاتون اور اس کا شوہر بھی عدالت میں موجود تھے۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا نیوز ایجنسی کے مطابق پولیس افسر کا کہنا ہے کہ وہ یقینی بنائیں گے کہ ’کیس میں ملزمان کو سخت سزا دی جائے‘۔

انہوں نے کہا کہ فرانزک افسران سمیت ایک خصوصی ٹیم نے جائے وقوع کا دورہ کیا جبکہ دوسری ٹیم مشتبہ افراد کی تلاش میں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’ٹیم مسلسل مختلف علاقوں میں چھاپے مار رہی ہے، ہم جلد ہی باقی ملزمان کو بھی گرفتار کر لیں گے۔

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں بھارت میں اوسطاً روزانہ تقریباً 90 ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

واقعے کی تفصیلات

بھارت کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ کے ضلع ڈمکا میں یکم مارچ کی رات کچھ لوگوں نے ہسپانوی خاتون اور اس کے شوہر پر حملہ کیا، جہاں انہوں نے رات گزارنے کے لیے خیمہ لگایا تھا۔

بھارت کے سیاحتی سفر پر آیا یہ جوڑا پورے جنوبی ایشیا میں موٹر بائیک کے ذریعے سفر کرتا ہے جس کی ویڈیوز وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شئیر کرتے ہیں۔

غیر ملکی جوڑے نے انسٹاگرام پر واقعہ کی خوفناک تفصیلات بھی شئیر کیں۔

ہسپانوی خاتون کے شوہر (جس کے چہرے پر تشدد کے نشانات واضح تھے) نے انسٹاگرام پر ویڈیو شئیر کرتےہوئے کہا کہ ’انہوں نے ہمیں مارا، انہوں نے میری گردن پر چھری رکھ کر جان سے مارنے کی دھمکی دی۔‘

ویڈیو کے نوٹ میں ہسپانوی خاتون نے لکھا کہ ’ہمارے ساتھ بھارت میں ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس کی ہم توقع نہیں کرسکتے تھے، 7 لڑکوں نے مجھے ریپ کا نشانہ بنایا، انہوں نے مجھے مارا پیٹا اور قیمتی اشیا چوری کرکے چلے گئے، وہ صرف مجھے ریپ کا نشانہ بنانا چاہتے تھے، ہم پولیس کے ساتھ ہسپتال میں ہیں‘۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ڈمکا پولیس افسر نے کہا کہ تمام ملزمان کی شناخت کر لی گئی ہے اور 4 افراد کو گرفتار کرلیا ہے جنہوں نے جرم کا اعتراف کیا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ خاتون کے طبی معائنے کی رپورٹس میں تصدیق ہوئی ہے کہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی۔

تبصرے (0) بند ہیں