پرویز الہیٰ، مونس الہیٰ کو ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دینے کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ

03 اپريل 2024
اپیلیٹ ٹربیونل نے سابق وزیر اعلٰی پنجاب پرویز الہٰی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی تھی—فائل فوٹو:ڈان نیوز
اپیلیٹ ٹربیونل نے سابق وزیر اعلٰی پنجاب پرویز الہٰی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی تھی—فائل فوٹو:ڈان نیوز

لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے سینئر رہنما پرویز الہی اور ان کے صاحبزادے مونس الہی سمیت دیگر کو 21 اپریل کو پنجاب میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے خلاف دائر اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

جسٹس شاہد بلال حسن کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے اپیل پر سماعت کی۔

پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 32 سے چوہدری محمد ارشد نے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔

درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا کہ پرویز الہی سمیت دیگر کو الیکشن لڑنے کی اجازت حقائق کے برعکس دی گی۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت سنگل بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔

عدالت عالیہ نے فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

واضح رہے کہ 26 مارچ کو لاہور ہائی کورٹ میں قائم اپیلیٹ ٹربیونل نے ضمنی الیکشن 2024 کے لیے سابق وزیر اعلٰی پنجاب پرویز الہٰی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی تھی۔

پرویز الہٰی نے اپنی درخواست میں مؤقف اپنایا تھا کہ ریٹرننگ افسر نے ان کے پی پی 32 سے کاغذات نامزدگی مسترد کیے ہیں، پرویز الہٰی کے کاغذات نامزدگی اثاثہ جات چھپانے کے الزام میں مسترد ہوئے۔

اس میں مزید کہا گیا تھا کہ ریٹرننگ افسر نے حقائق کے برعکس کاغذات نامزدگی مسترد کیے، لہٰذا عدالت ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔

لاہور ہائی کورٹ کے اپیلٹ ٹربیونل نے پرویز الہٰی کی جانب سے پنجاب میں ضمنی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف اپیلوں پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کو نوٹس جاری کر دیے تھے۔

ٹربیونل کے جسٹس شاہد کریم نے الیکشن کمیشن کو اپیلوں کے جوابات جمع کرانے کے لیے نوٹس جاری کیے تھے۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا تھا کہ انتخابات میں حصہ لینا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔

انہوں نے ٹربیونل سے کہا تھا کہ آر اوز کے غلط فیصلوں کو ایک طرف رکھا جائے اور اپیل کنندگان کے کاغذات نامزدگی منظور کیے جائیں۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا 21 اپریل کو ہونے والے آئندہ ضمنی انتخابات کے دوران قومی اور صوبائی دونوں اسمبلیوں کی 23 خالی نشستوں کے لیے کل 239 امیدوار میدان میں اتریں گے۔

اپنے ایک بیان میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ قومی اسمبلی کی خالی نشستوں کے لیے کل 50 امیدوار مد مقابل ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کی خالی نشستوں کے لیے کل 23 امیدوار میدان میں اتریں گے جبکہ پنجاب میں 154 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔

جبکہ سندھ میں زبیر احمد جونیجو نے پی ایس 80 سے بلامقابلہ اپنی نشست حاصل کرلی ہے، بلوچستان اسمبلی کی خالی نشستوں کے لیے 12 امیدوار میدان میں ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن 30 مارچ کو متعلقہ ریٹرننگ افسران کی جانب سے امیدواروں کی فہرستوں کو حتمی شکل دینے کے بعد ضمنی انتخابات کے لیے بیلٹ پیپرز کی چھپائی شروع کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی الیکشن کمشنرز کو ضروری انتخابی سامان فراہم کر دیا گیا ہے۔

مزید برآں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسران مقررہ انتخابی شیڈول کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔

ترجمان کے مطابق کمیشن نے وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کے ساتھ ساتھ صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھی قریبی رابطہ قائم کیا ہوا ہے۔

یاد رہے کہ 13اپریل کو الیکشن کمیشن نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کی 23 نشستوں پر 21 اپریل کو ضمنی انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا تھا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے شیڈول کے مطابق قومی اسمبلی کی 6، پنجاب اسمبلی کی 12، خیبرپختونخوا اور بلوچستان اسمبلی کی 2، 2 جبکہ سندھ اسمبلی کی ایک نشست پر ضمنی انتخاب ہوگا۔

تبصرے (0) بند ہیں