• KHI: Maghrib 7:24pm Isha 8:51pm
  • LHR: Maghrib 7:09pm Isha 8:45pm
  • ISB: Maghrib 7:19pm Isha 9:00pm
  • KHI: Maghrib 7:24pm Isha 8:51pm
  • LHR: Maghrib 7:09pm Isha 8:45pm
  • ISB: Maghrib 7:19pm Isha 9:00pm

ماضی میں ہراساں کرنے والے ہدایت کار کے ساتھ کام کی پیش کش ہوئی، نادیہ جمیل

شائع July 8, 2024
—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

معروف اداکارہ نادیہ جمیل نے انکشاف کیا ہے کہ ماضی میں جس ہدایت کار نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا تھا، حال ہی میں انہیں ان کے ساتھ کام کی پیش کش ہوئی۔

نادیہ جمیل نے حال ہی میں عفت عمر کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف معاملات پر کھل کر بات کی۔

ہراسانی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ ہراسانی کرنے والے شخص کا نام لینے سے نہیں ڈرتیں لیکن وہ اپنے بیٹوں کے جوان ہونے کی وجہ سے خاموش ہوجاتی ہیں۔

اداکارہ کے مطابق ان کے بیٹے تیزی سے بڑے ہو رہے ہیں اور ان کا خون ابھی گرم ہیں، وہ کوئی غلط بات سنتے ہیں تو فورا کہتے ہیں کہ کس نے کیا، نام بتائیں۔

نادیہ جمیل کے مطابق ان کے بیٹوں کا خون گرم ہے اور ان کی وجہ سے ہی وہ ہراساں کرنے والے ہدایت کار کا نام نہیں لیتیں۔

اداکارہ نے بتایا کہ حال ہی میں سینیئر اداکار نعمان اعجاز نے انہیں ایک ڈرامے میں کام کی پیش کش کی اور جب انہوں نے ہدایت کار کا نام پوچھا تو انہیں علم ہوا کہ وہی شخص ڈرامے کی ہدایات دیں گے جو ماضی میں انہیں ہراسانی کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

نادیہ جمیل کا کہنا تھا کہ ہراساں کرنے والے شخص کا نام سنتے ہی انہوں نے ڈرامے میں کام کرنے سے انکار کردیا۔

اداکارہ کے مطابق لیکن اب وہ یہ سوچتی ہیں کہ مذکورہ ہدایت کار اب بھی انڈسٹری کا حصہ ہیں اور انہوں نے نہ جانے کتنی لڑکیوں کے ساتھ غلط کیا ہوگا؟

ان کا کہنا تھا کہ شاید انہیں ہدایت کار کا نام لے لینا چاہیے تھا لیکن انہوں نے ان کا نام نہیں لیا اور اب وہ صرف اپنے جوان بیٹوں کی وجہ سے خاموش ہیں کہ ان کا خون گرم ہے۔

اگرچہ نادیہ جمیل نے بتایا کہ انہیں ماضی میں ڈراما ہدایت کار جنسی ہراسانی کا نشانہ بنا چکے ہیں اور معروف بھی ہیں لیکن اس باجود انہوں نے ان کا نام نہیں لیا۔

نادیہ جمیل جنسی ہراسانی کے معاملے پر پہلے بھی کھل کر بات کر چکی ہیں اور بتا چکی ہیں کہ پہلی بار انہیں چار برس کی عمر میں گھریلو ملازم نے نشانہ بنایا، پھر انہیں ایک رشتے دار نے بھی نشانہ بنایا جب کہ وہ بچپن سے جوانی تک متعدد بار جنسی ہراسانی کا نشانہ بنتی رہیں۔

کارٹون

کارٹون : 14 جولائی 2024
کارٹون : 11 جولائی 2024