• KHI: Asr 5:20pm Maghrib 7:22pm
  • LHR: Asr 5:02pm Maghrib 7:06pm
  • ISB: Asr 5:10pm Maghrib 7:16pm
  • KHI: Asr 5:20pm Maghrib 7:22pm
  • LHR: Asr 5:02pm Maghrib 7:06pm
  • ISB: Asr 5:10pm Maghrib 7:16pm

بھارت کو متنازع سرحدی علاقے میں ترقیاتی کام کا کوئی حق نہیں ہے، چین

شائع July 10, 2024
بھارت کی وزارت خارجہ نے فوری طور پر چین کے بیان پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا — فائل فوٹو: رائٹرز
بھارت کی وزارت خارجہ نے فوری طور پر چین کے بیان پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا — فائل فوٹو: رائٹرز

چین کی وزارت خارجہ نے سرحدی ریاست میں پن بجلی کے منصوبوں کو تیز کرنے کے نئی دہلی کے منصوبوں پر رائٹرز کی رپورٹ کے جواب میں کہا ہے کہ بھارت کو اس علاقے میں ترقیاتی منصوبے تعمیر کرنے کا کوئی حق نہیں ہے جسے چین، جنوبی تبت کہتا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ’جنوبی تبت چین کا علاقہ ہے۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کو وہاں ترقیاتی کام کرنے کا کوئی حق نہیں ہے اور چینی سرزمین، جس کو بھارت اروناچل پردیش کہتا ہے، وہاں ترقیاتی کام ’غیر قانونی اور ناجائز‘ ہیں۔

منگل کو رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بھارت، شمال مشرقی ہمالیائی ریاست میں 12 ہائیڈرو پاور اسٹیشنز کی تعمیر میں تیزی لانے کے لیے ایک ارب ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

بھارت کی وزارت خارجہ نے فوری طور پر چین کے بیان پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

بھارت کا کہنا ہے کہ اس کی دور افتادہ ریاست اروناچل پردیش ملک کا اٹوٹ انگ ہے، لیکن چین کا کہنا ہے کہ یہ جنوبی تبت کا حصہ ہے اور اسے وہاں بھارتی انفرااسٹرکچر کے منصوبوں پر اعتراض ہے۔

گزشتہ ہفتے، بھارت کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے اپنے چینی ہم منصب وانگ ژی سے قازقستان میں ملاقات کی تھی جہاں دونوں نے اپنی سرحد پر مسائل کے حل کے لیے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

کارٹون

کارٹون : 21 جولائی 2024
کارٹون : 20 جولائی 2024