ایلون مسک کا دائیں بازو کی جماعت کے حق میں بیان، جرمنی میں غصہ
انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹیو فار جرمنی (اے ایف ڈی) کے حق میں بیان دینے پر اسپیس ایکس کے بانی اور ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹیو ایلون مسک پر الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ وہ ملک کے آئندہ انتخابات میں مداخلت کرنا چاہتے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں ایلون مسک نے کہا تھا کہ ’صرف اے ایف ڈی جرمنی کو بچا سکتی ہے۔
دنیا کے امیر ترین آدمی نے یہ پیغام ایک ویڈیو کمنٹری پر پوسٹ کیا جس میں جرمنی کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کے رہنما فریڈرک مرز پر اے ایف ڈی کے ساتھ کام کرنے سے انکار پر تنقید کی گئی۔

پولز میں امیگریشن مخالف جماعت کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا ہے اور وہ فی الحال دوسرے نمبر پر ہے، لیکن مرکزی جماعتوں نے اس کے ساتھ تعاون کو مسترد کر دیا ہے۔
تاہم، حکومت جرمنی نے ایلون مسک کے تبصروں پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے، جو نو منتخب امریکی صدر کے دور حکومت میں ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی (محکمہ برائے حکومتی کارکردگی) کی سربراہی کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن دیگر بڑی جماعتوں کی جانب سے غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔
سی ڈی یو جماعت کے ڈینس ریڈٹکے نے روزنامہ ہینڈلزبلاٹ کو بتایا کہ مستقبل کی امریکی حکومت میں شامل ایک اہم شخصیت کی جانب سے جرمن انتخابی مہم میں مداخلت کرنا دھمکی آمیز، پریشان کن اور ناقابل قبول ہے۔
گزشتہ ماہ بجٹ کے معاملے پر چانسلر اولاف شولز کے اتحاد کے خاتمے کے بعد جرمنی میں انتخابات 23 فروری کو منعقد ہوں گے۔
ڈینس ریڈٹکے کا مزید کہنا تھا کہ ایلون مسک مغربی دنیا میں جمہوریت کے لیے خطرہ ہے اور دنیا کے امیر ترین شخص پر ایکس کو ’غلط معلومات‘ کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔
مرکزی بائیں بازو کی ایس پی ڈی جماعت سے تعلق رکھنے والے قانون ساز الیکس شیفر نے بتایا کہ ایلون مسک کی پوسٹ ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ ہے۔
الیکس شیفر کا کہنا تھا کہ ہم امریکیوں کے بہت قریب ہیں، لیکن اب اپنے دوست کے حوالے سے بہادری دکھانے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے انتخابات میں مداخلت پر اعتراض ہے۔
تاہم اے ایف ڈی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ردعمل میں ایلون مسک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں لوگ نے طویل عرصے سے اس بات کو تسلیم کیا ہے اور یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔

حکومت جرمنی نے ایلون مسک کی پوسٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جبکہ نے برلن میں ایک باقاعدہ پریس کانفرنس میں ترجمان نے بتایا کہ ’اظہار رائے کی آزادی ایکس پر بھی لاگو ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے خدشات کے باوجود حکومت نے پلیٹ فارم پر اکاؤنٹس کو بند نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ یہ لوگوں تک پہنچنے اور مطلع کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے، جب ایلون مسک نے جرمنی کی سیاست کے حوالے سے کوئی بیان دیا، گزشتہ ماہ انہوں نے اولاف شولز کی حکومت کے خاتمے کے بعد جرمن زبان میں ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ احمق ہیں‘۔













لائیو ٹی وی