بنوں میں 3 مطلوب دہشتگرد ہلاک، ڈیرہ اسمعٰیل خان میں خاندانی دشمنی پر 6 افراد قتل
صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں فورسز کے آپریشن میں 3 دہشتگرد ہلاک، جبکہ ڈیرہ اسمعٰیل خان میں خاندانی تنازع پر 2 گروپوں میں مسلح تصادم کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔
ڈان نیوز کے مطابق بدھ کی رات بنوں پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی مشترکہ کارروائی میں 3 مطلوب دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
بنوں ریجن پولیس کے ترجمان خانزالہ قریشی نے بتایا کہ ضرار گروپ سے تعلق رکھنے والے تین دہشت گرد بنوں شہر کے مضافات میں کی گئی ایک مشترکہ کارروائی میں مارے گئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دہشت گرد سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں مطلوب تھے۔
انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں کے قبضے سے 3 کلاشنکوفیں، میگزینز، ایک پستول اور ایک دیسی ساختہ بم برآمد ہوا ہے۔
دوسری جانب ضلع ڈیرہ اسمعٰیل خان کے علاقے پنیالہ میں خاندانی دشمنی کے باعث وانڈہ بیرون (اوبلین) میں 2 متحارب گروپوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 6 افراد جاں بحق اور ایک شخص زخمی ہو گیا۔
ڈان نیوز کے مطابق یہ افسوس ناک صبح 5 بج کر 30 منٹ پر اس وقت پیش آیا، جب دونوں گروپوں کا آمنا سامنا ہوا، فریقین قریبی رشتے دار ہیں، اور دیرینہ خاندانی تنازع کے باعث یہ تصادم پیش آیا ہے۔
جاں بحق ہونے والوں کی شناخت نقیب اللہ ولد محمد نواز، شفیع اللہ ولد مستی خان، نجیب اللہ ولد امان اللہ، جلال ولد احمد گل، نوید ولد محمد فرید، اور جہانزیب ولد محمد نواز کے ناموں سے ہوئی ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ مرنے والے 3 افراد اوبلین کے رہائشی تھے۔
لاشوں اور زخمی کو فوری طور پر پنیالہ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے، تاہم تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔
مقامی افراد کے مطابق دونوں گروپوں کے درمیان کشیدگی کافی عرصے سے جاری تھی۔












لائیو ٹی وی