• KHI: Clear 25.7°C
  • LHR: Partly Cloudy 22.8°C
  • ISB: Partly Cloudy 16.6°C
  • KHI: Clear 25.7°C
  • LHR: Partly Cloudy 22.8°C
  • ISB: Partly Cloudy 16.6°C

ڈبلیو ڈبلیو ایف کا ملک بھر میں سنگل یوز پلاسٹک کی پیداوار اور استعمال پرپابندی کا مطالبہ

شائع August 3, 2025
— فائل فوٹو: ڈان
— فائل فوٹو: ڈان

پاکستان میں وسیع پیمانے پر مون سون کی بارشوں اور اس کے بعد آنے والے سیلاب سے 280 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ ملک کی معیشت، انفرااسٹرکچر اور اہم ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

پانی میں تیرتے پلاسٹک اور فضلے کی ناقص مینجمنٹ نے ملک کے بڑے شہروں میں سیلابی صورتحال کو مزید بگاڑ دیا۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق پلاسٹک فری جولائی مہم کے سلسلے میں جاری ایک پریس ریلیز میں ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے کہا کہ موجودہ مون سون سیزن میں شہروں میں تیرتے پلاسٹک ایک سنگین مسئلہ ہیں، یہ پلاسٹک نکاسی آب کے نظام کو بند کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں طویل عرصے تک پانی ٹھہرنے سے سڑکیں، پل، عمارتیں اور دیگر بنیادی ڈھانچوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

پلاسٹک کا کچرا صحت کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کرتا ہے، اور جن علاقوں میں فضلہ مینجمنٹ کا نظام کمزور ہے وہاں پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بنتا ہے۔

معاشی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پلاسٹک کی سالانہ پیداوار دوگنی ہو چکی ہے، جو 2000 میں 23 کروڑ 40 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 2019 میں 46 کروڑ ٹن ہو گئی، اگر یہ رجحان برقرار رہا تو اس سے نہ صرف صحت کے خطرات بڑھیں گے بلکہ ماحولیاتی نظام کو بھی نقصان پہنچے گا اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں اضافہ ہو گا۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان نے کہا کہ پلاسٹک حیاتیاتی تنوع کے لیے خطرہ ہیں اور شدید صحت کے مسائل پیدا کرتے ہیں، یہ ٹوٹ پھوٹ کر مائیکرو پلاسٹک میں تبدیل ہو جاتی ہے، جو میٹھے پانی کے ذخائر کو آلودہ اور زمین کی زرخیزی کو متاثر کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پلاسٹک کی پیداوار کاربن کے اخراج میں نمایاں حصہ ڈالتی ہے، جس کا حل مربوط اقدامات اور فضلے کو بہتر طور پر ٹھکانے لگانے سے ہی ممکن ہے، انہوں نے مزید کہا کہ بالائی دریائی علاقوں کا بڑا حصہ پلاسٹک کا کچرا دریائے سندھ کو آلودہ کرتا ہے، جو آگے کوٹری بیراج سے گزر کر بحیرہ عرب تک پہنچتا ہے۔

حماد نقی خان نے کہا کہ ’یہ نہ صرف میٹھے پانی کے ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ ساحلی اور سمندری حیاتیاتی تنوع کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے‘۔

انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ مائیکرو پلاسٹک ہوا، پانی اور خوراک کے ذریعے ہماری سانس اور خوراک کے نظام میں شامل ہو کر تقریباً ہر چیز میں پہنچ چکے ہیں، کچھ تحقیقی مطالعات کے مطابق مائیکرو پلاسٹک انسانی جسم کے مختلف اعضا میں اور یہاں تک کہ نومولود بچوں کے نال میں بھی پائے گئے ہیں۔

پلاسٹک کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان متعلقہ اداروں اور سرکاری محکموں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور آگاہی مہمات، صفائی مہمات اور پاکستان کے ساحل پر بیچ کلیننگ سرگرمیاں شروع کی ہیں۔

ادارے نے ایسے منصوبے بھی شروع کیے ہیں جو پلاسٹک کی آلودگی کو کم کرنے اور مقامی لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں, پائیدار روزگار کو فروغ دینے اور پلاسٹک کے کچرے کو کم کرنے کے لیے، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے کراچی اور اسلام آباد میں 50 سے زائد مقامی خواتین کو تربیت دی ہے جو آسانی سے ری سائیکل نہ ہونے والی ملٹی لیئرڈ پلاسٹک (ایم ایل پیز) کو مارکیٹ میں فروخت کے قابل مصنوعات میں تبدیل کر کے آمدنی حاصل کر رہی ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے ایک اسکوپنگ اسٹڈی کے ذریعے کراچی کے ساحل کے ساتھ پلاسٹک کے اخراج کے مقامات کی نشاندہی کی اور فش ہاربر پر ایک لِٹر بوم نصب کیا، جس کے ذریعے 2500 ٹن سے زائد کچرا نکالا گیا۔

پلاسٹک بینک انیشی ایٹو کے تحت کراچی کی پانچ بڑی یونیورسٹیوں میں پلاسٹک ریکوری بینکس بھی قائم کیے گئے ہیں، جہاں کچرے کی علیحدہ علیحدہ تلفی کے لیے ڈبے اور آگاہی مواد فراہم کیا گیا ہے۔

سیلاب اور پلاسٹک کے کچرے سے نمٹنے کے لیے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے پورے ملک میں سنگل یوز پلاسٹک کی پیداوار اور استعمال پر مکمل پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پلاسٹک مصنوعات کے استعمال سے گریز کریں اور متبادل اپنائیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے لیے ڈان میڈیا گروپ کی مہم بریتھ پاکستان کا حصہ بنیں۔

کارٹون

کارٹون : 8 فروری 2026
کارٹون : 7 فروری 2026